رسائی کے لنکس

logo-print

میں کسی صدارتی امیدوار کا حامی نہیں: خامنہ ای


ایران کے سپریم رہنما نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ وہ صدارتی انتخاب میں کسی خاص امیدوار کی کامیابی کے حق میں ہیں

ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے واضح کیا ہے کہ وہ جون میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں شریک کسی بھی امیدوار کی حمایت نہیں کر رہے۔

بدھ ایرانی پارلیمان کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے اعلیٰ ترین رہنما نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ صدارتی انتخاب میں اپنے کسی پسندیدہ امیدوار کو کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔


خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس طرح کی باتیں ہمیشہ کی جاتی رہی ہیں جو کبھی درست نہیں ہوتیں کیوں کہ ان کے بقول کوئی نہیں جانتا کہ "رہنما" کسے ووٹ دیں گے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خامنہ ای صدارتی محل میں کسی وفادار اور فرمانبردار شخص کو براجمان دیکھنے کے خواہش مند ہیں جو ان کی بالادستی کو چیلنج نہ کرے۔

موجودہ صدر احمدی نژاد بھی اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران میں خامنہ ای اور ان کے قریبی قدامت پسند حلقوں کے منظورِ نظر رہے تھے لیکن احمدی نژاد کی آخری چار سالہ مدتِ صدارت میں ان کے سپریم رہنما کے ساتھ اختلافات زبان زدِ عام رہے۔

ایران کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ 'شوریٰ نگہبان' پہلے ہی کئی اصلاح پسند اور آزاد امیدواروں کو صدارتی انتخاب کے لیے نا اہل قرار دے چکا ہے۔ نااہل ہونے والوں میں ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی اور صدر احمدی نژاد کے مشیر اسفندیار رحیم مشائی بھی شامل ہیں۔

سنہ 2009 کےصدارتی انتخاب میں احمدی نژاد کی فتح کے بعد اٹھنے والی احتجاجی تحریک 'گرین موومنٹ' کے بیشتر رہنما بھی حالیہ انتخاب لڑنے کے لیے نااہل قرار پائے ہیں جس کے بعد صدارتی دوڑ میں زیادہ تر قدامت پسند اور سپریم رہنما کے قریب سمجھے جانے والے امیدواران ہی رہ گئے ہیں۔

خیال رہے کہ علما اور قانون دانوں پر مشتمل 12 رکنی 'شوریٰ نگہبان' کے چھ رکن براہِ راست سپریم رہنما نامزد کرتے ہیں جب کہ تجزیہ کاروں کے بقول انتخاب لڑ کر شوریٰ کا حصہ بننے والے باقی چھ ارکان پر بھی سپریم رہنما براہِ راست اثر انداز ہوسکتا ہے۔

'شوریٰ نگہبان' نے آئندہ ماہ کے صدارتی انتخاب لڑنے کے لیے جن آٹھ امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے ان میں جوہری معاملات پر ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار سعید جلیلی بھی شامل ہیں جو ماضی میں خامنہ ای کے سیکریٹریٹ سے منسلک رہ چکے ہیں۔

صدارتی امیدواران میں دوسرے نمایاں امیدوار غلام علی حداد عادل ہیں جو سپریم رہنما کے قریبی مشیر اور ان کے رشتے دار بھی ہیں جب کہ صدر بننے کی دوڑ میں خامنہ ای کے مشیر برائے خارجہ امور علی اکبر ولایتی بھی شامل ہیں۔

بدھ کو قانون سازوں سے اپنے خطاب میں خامنہ ای نے امیدواران کا شکریہ ادا کیا جنہیں 'شوریٰ نگہبان' نے انتخاب لڑنے کے لیے نا اہل قرار دیا ہے اور انہوں نے، بقول سپریم رہنما کے، فیصلہ تسلیم کرکے"قانون کی پاسداری کی ہے"۔
XS
SM
MD
LG