رسائی کے لنکس

logo-print

سعودی حکمران خاندان میں محمد بن سلمان کی مخالفت کے آثار


سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان

سعودی عرب کے حکمران خاندان السعود کے طاقت ور حصوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں شہزادے اور کزن جانشینی کی قطار میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ولی عہد کے 82 سالہ والد، بادشاہ سلمان ابھی زندہ ہیں۔

سعودی صحافی جمال خشوگی کی ہلاکت پر اٹھنے والے بین الاقوامی شور کے بعد سعودی حکمران خاندان کے کچھ افراد ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کو بادشاہ بنانے سے روکنے پر زور دے رہے ہیں۔

سعودی عرب کے حکمران خاندان السعود کے طاقت ور حصوں سے تعلق رکھنے والے درجنوں شہزادے اور کزن جانشینی کی قطار میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ ولی عہد کے 82 سالہ والد، بادشاہ سلمان ابھی زندہ ہیں۔

روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ امکان نہیں ہے کہ بادشاہ اپنے پسندیدہ شہزادے جسے مغرب ایم بی ایس (محمد بن سلمان) کے نام سے جانتا ہے، کے خلاف ہو جائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے اس کی بجائے وہ خاندان کے دوسرے ارکان کے ساتھ اس امکان پر بات چیت کر رہے ہیں کہ بادشاہ کی موت کے بعد ان کا حقیقی بھائی پرنس احمد بن عبدالعزیز تخت و تاج سنبھال لے۔

پرنس احمد بادشاہ سلمان کے واحد زندہ حقیقی بھائی ہیں اور انہیں خاندان کے ارکان، سیکیورٹی کے عہدے داروں اور کچھ مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے۔

سعودی حکمران خاندان میں سینکڑوں شہزادے ہیں۔ یورپ کی روایتی بادشاہت کے برعکس، سعودیوں میں خودکار طریقے سے جانشینی باپ کے بعد سب سے بڑے بیٹے کو منتقل ہونے کی روایت نہیں ہے۔ اس کی بجائے سعودی بادشاہت میں قبائلی روایات تابع ہے جس کے تحت بادشاہ اور خاندان کی ہر شاخ کے سینیر ارکان یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ قیادت کے لیے کون بہتر ہے۔

سینیر امریکی عہدے دار حالیہ ہفتوں میں سعودی مشیروں کو یہ نشاندہی کر چکے ہیں کہ وہ شہزادہ احمد کی حمایت کریں گے جو گزشتہ تقریباً 40 سال سے نائب وزیر داخلہ ہیں اور بادشاہت کے ایک ممکنہ امیدوار ہیں۔

سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پرنس احمد، موجودہ حکمران محمد بن سلمان کی جانب سے لائی جانے والی سماجی اور اقتصادی اصلاحات کو واپس نہیں کریں گے۔

ایک سینیر امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ قانون سازوں کے دباؤ اور سی آئی اے کے اس اندازے کے باوجود کہ خشوگی کے قتل کا حکم محمد بن سلمان نے دیا تھا، وائٹ ہاؤس کو کراؤن پرنس سے فاصلہ قائم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ سی آئی اے کے اندازے کو بہت قبل از وقت قرار دے چکے ہیں اور یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ سعودی عرب سے اپنے معاہدے منسوخ کر کے چین اور روس کے لیے جگہ خالی نہیں کرنا چاہتے۔

پچھلے مہینے کراؤن پرنس کے ایک بڑے ناقد جمال خشوگی کے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں بے دردی سے قتل کی عالمی سطح پر مذمت کی گئی جن میں کئی امریکی سیاست دان اور عہدے دار بھی شامل ہیں۔ سی آئی اے کا خیال ہے کہ کراؤن پرنس نے اس قتل کا حکم دیا تھا۔

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ کراؤن پرنس کو اس ہلاکت کے متعلق کچھ پتا نہیں ہے۔

خشوگی کے قتل پر بین الاقوامی شور نے شاہی خاندان پر دباؤ بڑھا دیا ہے جو پہلے ہی 33 سالہ پرنس محمد کے تیزی سے اقتدار کی سیڑھیاں چڑھنے پر تقسیم ہے۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنی سماجی اور اقتصادی اصلاحات کی وجہ سے عوامی شہرت حاصل کی ہے۔ ان اصلاحات میں عورتوں کو ڈرائیونگ کا حق اور سینماگھروں میں جانے کی اجازت دینا شامل ہے۔

تاہم ان کی اصلاحات کو اپنے مخالفین کی پکڑ دھکڑ سے دھچکا لگا ہے جن میں شاہی خاندان اور کاروباری افراد پر کرپشن کے الزامات میں کارروائی شامل ہے جس میں لگ بھگ 30 شہزادوں کو بھی پکڑا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یمن کی جنگ کے معاملے میں بھی انہیں مخالفت کا سامنا ہے۔

سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ شاہی حلقوں کے کئی شہزادوں کا خیال ہے کہ اگر جانشینی کی لائن کو تبدیل کر دیا جائے تو اسے سیکیورٹی اور انٹیلی جینس کی جانب کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا، جس کا کنٹرول ان کے پاس ہے۔

82 سالہ کنگ سلمان امریکہ کے ساتھ کسی بڑے تنازع کے نتائج سے آگاہ ہیں جس میں یہ امکان بھی موجود ہے کہ کانگریس سعودی عرب کے اثاثوں کو منجمد کرنے کی کوشش کرے گی۔

جن لوگوں نے حالیہ عرصے میں کنگ سلمان سے ملاقات کی ہے ان کا کہنا ہے کہ خشوگی کے معاملے میں وہ محمد بن سلمان کے کسی بھی کردار سے انکار کرتے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ان کی بادشاہت کے خلاف سازش ہے۔ لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ وہ دباؤ میں ہیں اور پریشان ہیں۔

بادشاہ کے انتقال کی صورت میں، یا اگر وہ حکمرانی کے قابل نہ رہیں تو 34 ارکان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کونسل جن میں حکمران خاندان کی ہر شاخ کا نمائندہ شامل ہوتا ہے، جانشینی کا فیصلہ کرتی ہے اور محمد بن سلمان کے خود بخود نیا بادشاہ بننے کا امکان نہیں ہے۔

شاہی خاندان نے اس بارے میں روئیٹرز کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

سعودی ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد بن سلمان نے السعود حکمرانی کی ایک صدی پر محیط ادارجاتی بنیادیں تباہ کر دیں ہیں، جن میں خاندان، مذہبی راہنما، قبیلے اور کاروباری خاندان شامل ہیں جس سے اندرون خانہ تشویش پائی جاتی ہے۔

تاہم خشوگی کے قتل پر اٹھنے والے احتجاج اور شور کے باوجود محمد بن سلمان اپنے ایجنڈے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG