رسائی کے لنکس

logo-print

طلبہ یونینز سے نکلنے والوں نے مارشل لا کے خلاف تحریکیں چلائیں، خوش بخت شجاعت


خوش بخت شجاعت کے بقول، میں نہیں کہہ سکتی کہ طلبہ یونینز بحال کی گئیں تو وہ پہلے کی طرح کام کرسکیں گی یا نہیں۔

پاکستان کی سیاست اور میڈیا کے کئی بڑے نام ماضی میں طلبہ تنظیموں کے رہنما رہ چکے ہیں۔ سابق فوجی صدر ضیا الحق نے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی تھی اور مبصرین اس اقدام کو سیاست کی نرسری ختم کرنے سے تعبیر کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ طلبہ سیاست سے پاکستان کو کیا ملا؟ پابندی سے فائدہ ہوا یا نقصان؟ اور ضیا الحق کے بعد آنے والی حکومتوں نے اس پابندی کو ختم کیوں نہیں کیا۔

اس سلسلے میں ایم کو ایم کی سینیٹر اور سابق طالب علم رہنما خوش بخت شجاعت سے خصوصی گفتگو پیش کی جارہی ہے۔

طلبہ کو یونینز سے اپنا ہنر سامنے لانے کے لیے پلیٹ فارم ملتا تھا
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:58 0:00

آپ نے کس سال یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور کون سی طلبہ تنظیم میں شمولیت اختیار کی؟

"یہ انیس سو بہتر تہتر کی بات ہے۔ اس وقت طلبہ یونینز اپنے عروج پر تھیں۔ ان کی وجہ سے ہماری سیاست بہت فعال تھی۔ اس زمانے میں بہت زیروبم بھی آئے۔ اکہتر کی جنگ اور اس کے بعد بنگلادیش کا ٹوٹنا بھی ہم نے دیکھا۔ کالج یونیورسٹی میں ہمیشہ سیاسی جماعتوں کی ذیلی تنظیمیں ہوا کرتی تھیں۔ جماعت اسلامی کے پاس متحرک تنظیم جمعیت تھی۔ وہ بہت جارح مزاج اور منظم تھی۔ پھر این ایس ایف تھی۔"

خوش بخت شجاعت کے بقول، اُس زمانے میں ماؤزے تنگ کا نام لیا جاتا تھا۔ سوشلزم اور نیشنلزم کی بات کی جاتی تھی۔ یہ سب کچھ بھٹو صاحب کی وجہ سے نمایاں تھا۔ ظاہر ہے کہ این ایس ایف کا جھکاؤ پیپلز پارٹی کی طرف تھا۔ وہ لبرل اور پروگریسو پارٹی کہلاتی تھی۔ اس زمانے میں یہ دو پارٹیاں ہی زیادہ متحرک تھیں۔ ایم کیو ایم تو اس وقت بنی نہیں تھی۔ ان کے علاوہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علاقائی تنظیمیں بھی تھیں۔

انہوں نے کہا "میرا گھرانہ بہت روایتی تھا۔ میرے والد بھٹو کے حامی تھے لیکن میرے بڑے بھائی جماعت اسلامی میں تھے۔ وہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں پڑھتے تھے اور جمعیت کے سرگرم کارکن تھے۔ والد اور بھائی، دونوں کے الگ الگ رجحان دیکھ کر میں متفکر تھی کہ کس پارٹی میں شمولیت اختیار کروں۔ لیکن میں نے آزادانہ حیثیت برقرار رکھی اور اسی طرح الیکشن جیت کر ڈبیٹنگ سوسائٹی کی صدر منتخب ہوئی۔"

اس وقت کون سے طلبہ رہنما کراچی یونیورسٹی میں تھے؟ کیا وہ بعد میں قومی سیاست میں آئے؟

"ظہور الحسن بھوپالی اس زمانے میں یونین کے صدر تھے۔ وہ مجھ سے تھوڑے سے سینئر تھے۔ بہت اچھے مقرر تھے اور انھوں نے تحریکی کام بھی کیا۔ جب وہ عملی سیاست میں آئے تو انھیں ان کے دفتر میں گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ اکرم کلہوڑو بھی ایک سال سینئر تھے۔ دوست محمد فیضی تھے جو بعد میں مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بنے۔ اس سے پہلے وہ بھی ظہور الحسن اور پروفیسر غفور کے ساتھ تھے۔"

خوش بخت کا کہنا تھا"چونکہ میرا تھوڑا سا ادبی گھرانہ تھا اس لیے میں سیاسی طور پر نہیں بلکہ ادبی محاذ پر متحرک تھی۔ میرے دوستوں میں پروین شاکر تھیں، دوست محمد فیضی تھے، شفیع نقی جامعی تھے۔ پیرزادہ قاسم صاحب ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔ تقریر کرنا، مضامین لکھنا، لائبریری میں بیٹھنا، ادیبوں شاعروں کی محفلیں اور مشاعرے منعقد کرنا، یہ ہمارے مشاغل تھے۔ ہمارے سامنے تحریکیں چل رہی تھیں اور ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان کا حصہ ہوتے تھے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تقریری مقابلے ہوتے تو کہا جاتا کہ آج جمعیت نے ٹرافی جیت لی یا این ایس ایف نے مقابلہ جیت لیا۔"

آپ کے ساتھ تقریریں کرنے والوں کو آپ جیسی شہرت نہیں ملی؟

"مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی تھی کہ میں میڈیا میں آگئی۔ الیکٹرانک میڈیا بالکل نیا نیا تھا۔ میں نوجوان مقرر کے طور پر پاکستان ٹیلی وژن میں متعارف ہوئی۔ یہ تعارف ایسا ہوا کہ سلسلہ چل پڑا اور میں سیلیبرٹی بنتی چلی گئی۔ـ

اپنے اس وقت کے ساتھیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا "میرے ساتھ بہت اچھے ڈبیٹر تھے، انیل تفضل، شائستہ زیدی، صادقہ کرار، صالحہ کرار، کشور غنی، منور غنی، یہ وہ لڑکیاں اور خواتین تھیں جو ہمارے ساتھ تقریری مقابلوں میں شریک ہوتی تھیں۔ لیکن بس، کوئی خانہ دار خاتون بن گئیں، کوئی بیرون ملک شادی ہوکر چلی گئیں یا کسی اور شعبے میں مصروف ہوگئیں۔"

خوش بخت شجاعت کا اپنے بارے میں کہنا تھا "میں میڈیا میں آگئی اور اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیت دی تھی اس کا استعمال جاری رکھا۔ اس کے علاوہ ایک بات یہ ہوئی کہ میں نے یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد آٹھ الیکشن لڑے۔ آرٹس کونسل کے الیکشن لڑے، پی ایچ ایف ویمنز ونگ کی دو بار صدر بنی۔ پھر قومی اسمبلی کے دو الیکشن لڑے۔ ان الیکشنز نے مجھے میڈیا میں ان رکھا۔"

آپ یونیورسٹی کے زمانے میں سیاست میں دلچسپی نہیں لیتی تھیں تو پھر عملی سیاست میں کیسے آگئیں؟

اس سوال پر خوش بخت شجاعت کا کہنا تھا "میں سیاست سے دور بھاگتی تھی۔ اس وقت میرا ذہن ادب کی طرف تھا۔ میں لکھتی تھی، شاعری کرتی تھی۔ سیاست کی طرف آنے کا ارادہ نہیں تھا۔ میں نے فلاحی کام شروع کیے اور آرٹس کونسل کا الیکشن لڑا۔ مجھے احساس ہوا کہ جب تک اختیار نہیں ملے گا، تب تک کام کروانے میں رکاوٹیں آتی رہیں گی۔ اس لیے جب مجھے پیشکش ہوئی تو میں عملی سیاست میں آگئی۔"

خوش بخت کے بقول "اس وقت تک مجھے سیاسی جماعتوں کی اندرونی سیاست کا علم نہیں تھا۔ اس وقت ہمارا میڈیا بھی اتنا تیز نہیں تھا اور اندر کی باتیں سامنے نہیں آتی تھیں۔ ہمیں مشرف صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنھوں نے سیاست کو کھول کر ننگا کردیا اور کچھ چھپا نہیں رہا جو بہت اچھی بات ہے۔ اس کا سہرا ان کے سر ہے۔"

"میں نے پارٹی میں آنے کے بعد بہت کام کیا لیکن آج میں آپ کو بتاسکتی ہوں کہ سیاسی جماعت کی اندرونی سیاست اچھے کام کو بھی پیچھے لے جاتی ہے۔ یہ چیز میرے لیے بہت مایوس کن تھی۔ عوامی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے آپ جو کام کرسکتے ہیں، وہ نہیں کرپاتے۔ آج کل کی سیاست میں انفرادی مفادات کو فوقیت دی جاتی ہے۔ پہلے ایسا نہیں تھا۔ ماضی میں ایسے رہنما تھے جنھوں نے محنت کرکے اپنا نام بنایا تھا۔ اب تو رہبروں نے اتنا برا حال کردیا ہے کہ نہ پوچھیں۔ کون سے والدین چاہیں گے کہ ان کا بچہ سیاست کا رخ کرے۔"

طلبہ یونینز نے نوجوان نسل کا بہت وقت لیا۔ پڑھائی کا بھی حرج ہوا ہوگا؟

اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا" آپ ہمارے زمانے کے لوگوں کے نام دیکھیں۔ جتنی بیوروکریسی تھی، دوسرے ہر شعبے کے جتنے بڑے لوگ، جنھوں نے کمال کردکھایا، وہ طلبہ یونینز کے لوگ تھے۔ کوئی کوئی طالب علم ہوتا ہے جو اے پلس گریڈ لاسکتا ہے۔ کوئی طالب علم سی گریڈ سے آگے نہیں جاسکتا لیکن اس میں کوئی اور کام کرنے کی مہارت ہوتی ہے۔ـ

اپنی بات کی تائید میں ان کا کہنا تھا کہ "طلبہ یونین سے طلبہ کو پلیٹ فارم ملتا تھا جس میں وہ اپنا ہنر سامنے لاسکتے تھے۔ کوئی اچھا گاسکتا ہے، کوئی اچھا بول سکتا ہے، یونینز مقابلے کرواتی تھیں۔ ان میں جو ابھر کے سامنے آتے تھے، ان کے الیکشن ہوتے تھے۔ وہ لوگوں کو قائل کرتے تھے کہ ہمیں ووٹ ڈالو۔ جو شخص اس پلیٹ فارم پر کھڑے ہوکر کالج یونیورسٹی میں کامیاب ہوتا تھا، وہ عملی زندگی میں بھی لوگوں کو قائل کرنے کا طریقہ جانتا تھا۔"

"میں سمجھتی ہوں کہ یونینز کی وجہ سے کسی کی پڑھائی کا حرج نہیں ہوا۔ بلکہ ادیب شاعر لکھاری اور بڑے بڑے دانشور نکلے۔ آج کیوں نہیں نکل رہے؟ کیوں آپ کو نوجوانوں میں کوئی احمد فراز نظر آرہا ہے؟ کیا کوئی پروین شاکر دکھائی دے رہی ہے؟ کوئی ممتاز مفتی سامنے آرہا ہے؟ وہ تمام لوگ کالجوں یونیورسٹیوں کے نکلے ہوئے تھے۔ طلبہ یونینز کی تقریبات میں انھوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد وہ آب و تاب سے چمکنا شروع ہوگئے اور دنیا میں نام پیدا کیا۔"

جنرل ضیا الحق نے طلبہ یونینز پر پابندی لگادی تھی۔ آج اگر پابندی ختم کردی جائے تو اس کا کس قدر فائدہ ہوگا؟

خوش بخت شجاعت نے کہا کہ بہتا ہوا پانی پاک ہوتا ہے۔ جب بڑا گیپ آجاتا ہے تو ٹھہرا ہوا پانی گدلا ہوجاتا ہے۔ آپ کراچی کے بلدیاتی نظام کی مثال لیں۔ مشرف کے زمانے میں کراچی کے بلدیاتی ادارے نے کیا کمال دکھایا کہ دنیا کے بہترین شہروں میں اس کا شمار ہونے لگا۔ لیکن جب آٹھ نو سال بعد دوبارہ کام شروع کیا گیا تو بلدیہ ویسے کام نہیں کرپائی۔

ان کے بقول، طلبہ یونینز بحال کردی جائیں تو پہلے آپ کو بچوں کو تربیت دینا پڑے گی۔ یونین کیا ہوتی ہے، کیسے کام کرتی ہے، آپ اس سے کیا کام لے سکتے ہیں۔ پہلے تو بنے بنائے دماغ تھے جو برس ہا برس کی کاوشوں کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے مارشل لا کے خلاف آوازیں بلند کی تھیں۔ انہوں نے بڑی بڑی تحریکیں چلائیں۔ انھوں نے اپنی تنظیم کے ذریعے بہت سے لوگوں کے کام کیے، بڑے لیڈرز کو جنم دیا۔ اب میں نہیں کہہ سکتی کہ یونینز بحال کی گئیں تو وہ اسی طرح کام کرسکیں گی یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG