رسائی کے لنکس

موسیقی کے آلات جلانے پر مدرسے کی انتظامیہ کی معذرت

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے لنڈی کوتل میں ایک دینی مدرسے کے علما اور انتظامیہ نے سازندوں سے چھینے گئے موسیقی کے آلات جلانے پر معذرت کرتے ہوئے اسے غلط فہمی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

دو روز قبل اس مدرسے سے تعلق رکھنے والوں نے یہ آلات چھین کر اسے اپنے احاطے میں جمع کر کے آگ لگا دی تھی۔ یہ سازندے شیخمل خیل اور مختار خیل نامی دیہاتوں میں شادی کی تقریبات میں موسیقی کے پروگرام میں شریک تھے۔

اس واقعے کے بعد دارالعلوم آستانہ صدیقہ بنوریہ کی انتظامیہ میں شامل محمد ابراہیم عرف باچا جان نے موسیقی کے آلات کو جلا کر ان کے بقول غیر اسلامی فعل کو جڑ سے ختم کرنے کی کوشش میں ساتھ دینے پر مقامی لوگوں کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

تاہم واقعے کے بعد لنڈی کوتل کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے مدرسے کے انتظامیہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پر جواب طلب کیا تھا جس کے جواب میں ہفتہ کو انتظامیہ نے تحریری طور پر اس سرگرمی پر معذرت کرتے ہوئے اسے غلط فہمی کی بنیاد پر پیش آنے والا واقعہ قرار دیا۔

خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں موسیقی کا استعمال کوئی انوکھی بات نہیں لیکن گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کے علاوہ سخت گیر موقف رکھنے والے عسکریت پسندوں نے موسیقی کو غیر اسلامی قرار دے کر اس کے اہتمام پر پابندی لگا رکھی تھی۔

ایسی ہی قدغنوں کی وجہ سے بہت سے سازندے اور فنکار اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر بھی مجبور ہوئے۔

تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دینی مدرسے کی طرف سے موسیقی کے آلات کو نذر آتش کرنے پر انتظامیہ سے معذرت کی گئی اور آئندہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی۔

خیبر ایجنسی میں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اور قبائلی راہنما شاہ حسین شنواری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں مدرسے کی انتظامیہ کی طرف سے کیے جانے والے اقدام کو قابل مذمت قرار دیا۔

"میرے خیال میں یہ ظلم ہے، میں نہیں سمجھتا کہ یہ خلاف قانون یا غیر اسلامی ہے۔ یہ لوگ پشتون ثقافت کو تباہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں جو انتہائی قابل مذمت ہے۔"

ان کا کہنا تھا کہ معذرت کرنے سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ثقافت اور روایت کے مخالفین کا رویہ شاید تبدیل ہو رہا ہے اور انھیں توقع ہے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہیں ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG