رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر ایجنسی میں بم دھماکے سےآٹھ ہلاک


خیبر ایجنسی میں بم دھماکے سےآٹھ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمعہ کو ہونے والے بم دھماکے میں کم ازکم آٹھ افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔

قبائلی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ وادی تیراہ کے گاؤں مہربان کلے میں منعقدہ مویشیوں کی منڈی میں قائم ایک دکان میں بم پھٹنے سے پیش آیا۔ ہلاک ہونے والے مقامی قبائل بتائے جاتے ہیں۔ زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

فوری طور پر اس دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن خیبر ایجسنی میں مخالف شدت پسند تنظیمیں لشکر اسلام اور انصار الاسلام ایک دوسرے پر مہلک حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

ادھر جنوبی ضلع ہنگو میں جمعے کے روز مشتبہ عسکریت پسندوں کے مقامی طور پر تیار کردہ ریمورٹ کنٹرول بم سے پولیس کی ایک گاڑی سے حملہ کیا۔ اس واقعے میں تین پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

حالیہ دنوں میں ملک کے شمال مغربی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک روز قبل سوات کے تجارتی مرکز مینگورہ کے بس اڈے پر ہونے والے خودکش دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ گذشتہ ہفتے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں ہونے والے خودکش دھماکوں میں 107افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

افغان سرحد سے ملحقہ خیبر ایجنسی افغانستان میں تعینات امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے لیے رسد کی ترسیل کا ایک اہم زمینی راستہ ہے اور عسکریت پسندوں کی طرف سے اکثر رسد لے جانے والے قافلوں پر حملے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG