رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: طالبات کے لیے پردے کی پابندی کا حکم واپس


حکام نے اس ضمن میں ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں تمام متعلقہ ضلعی افسران کو یہ حکم نامہ واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت کے بعد صوبے بھر میں طالبات پر پردے کی پابندی کے حکم نامے کو واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

حکام نے اس ضمن میں ایک نیا ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں تمام متعلقہ ضلعی افسران کو طالبات کے پردے کو لازم قرار دینے کا حکم نامہ واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی اور محکمہ تعلیم کے سیکریٹری ارشد خان نے اپنے الگ الگ بیانات میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس پابندی کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا تھا جس کے فوری بعد انہوں نے یہ ہدایات واپس لینے کا حکم دیا ہے۔

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے تعلیم ضیا اللہ بنگش کی ہدایت پر پشاور سمیت خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کے تدارک کے لیے پردے کو لازمی قرار دینے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔

اس حکم نامے کے جاری ہونے کے بعد پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑ گئی تھی اور مختلف حلقوں کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم نے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کے تدارک کے لیے پردے کو لازمی قرار دینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ (فائل فوٹو)
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے تعلیم نے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعات کے تدارک کے لیے پردے کو لازمی قرار دینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

انسانی حقوق کی تنظیموں، والدین اور دیگر طبقوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ایسی پابندیاں عائد کرنے کی بجائے خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

عورت فاؤنڈیشن خیبرپختونخوا کی سربراہ شبینہ ایاز نے مشیر تعلیم کے اس فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس فیصلے سے ہری پور یا دیگر علاقوں میں ہراساں کرنے والے واقعات ختم نہیں ہو سکتے۔

ان کے بقول حکومت کو چاہیئے کہ وہ ہراساں کرنے یا خواتین کے خلاف تشدد کے دیگر واقعات کے پیچھے محرکات اور وجوہات کو ختم کرنے پر توجہ دے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ طالبات پر پابندی لگانے کی بجائے نصاب اور نظام میں مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ذرائع ابلاع میں مؤثر آگاہی مہم چلانے اور بچیوں کو ہراساں کرنے اور ان کے خلاف تشدد میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات سے ہی یہ مسائل حل ہوں گے۔

پسِ منظر

گزشتہ چند مہینوں سے خیبرپختونخوا کے کئی علاقوں میں مختلف نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم لڑکیوں کو ہراساں کیے جانے اور انہیں اغوا کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچیوں کی جانب سے اسکول چھوڑنے یا تعلیم معطل کرنے کی ایک اہم وجہ بھی ہراساں کرنے کے واقعات ہیں۔

ماضی میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت کے دوران بھی صوبے میں اس نوعیت کی پابندی لگائی گئی تھی۔ مگر مخالفت اور اعتراضات کے باعث اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG