رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ سے اغوا ہونے والے ڈاکٹر ابراہیم گھر پہنچ گئے


ڈاکٹر ابراہیم خلیل (فائل تصویر)

کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے سے 13 دسمبر کو اغوا کیے جانے والے نیورو سرجن ڈاکٹر ابراہیم خلیل 48 روز کے بعد واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔

ڈاکٹر ابراہیم کے اہلِ خانہ اور ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم نے نیورو سرجن کے گھر پہنچنے کی تصدیق کر دی ہے۔

تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا آیا ڈاکٹر ابراہیم کی رہائی تاوان کی ادائیگی کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے یا اغوا کاروں نے انہیں خود ہی رہا کیا ہے۔

ڈاکٹر ابراہیم کی رہائی سے متعلق بھی متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔

سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو نامعلوم افراد بدھ کی صبح چھ بجے پاک افغان سرحد کے قریب چمن بازار کے مال روڈ پر چھوڑ گئے تھے جہاں سے وہ ایک ٹیکسی کے ذریعے کوئٹہ میں اپنے گھر پہنچے۔

تاہم، پاکستان کے بعض مقامی ٹی وی چینلز نے ڈاکٹر ابراہیم کے اہلِ خانہ کے حوالے سے کہا ہے کہ مغوی نیورو سرجن کو اغوا کاروں نے منگل کو کراچی میں رہا کیا تھا، جہاں سے وہ بدھ کو بذریعہ پرواز کوئٹہ پہنچے۔

حکومت یا پولیس کی جانب سے تاحال ڈاکٹر ابراہیم کی رہائی سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

بُدھ کو اپنے گھر پہنچنے کے بعد اپنے عزیزوں اور وہاں موجود صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ابراہیم خلیل کا کہنا تھا کہ وہ بہت زیادہ تھکے ہوئے ہیں جس کے سبب وہ زیادہ بات نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ اغوا کاروں نے انہیں ایک رات قبل نشہ آور ادویات دی تھیں جس کی وجہ سے ان کی طبیعت بہتر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اپنی رہائی پر خوش ہیں اور بازیابی کے لیے تحریک چلانے پر اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے شکر گزار ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کے دوان ڈاکٹر ابراہیم خلیل کے چہرے پر پریشانی اور تھکن کے آثار نمایاں تھے اور اُن کے سر کے بال اور داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔

ڈاکٹر ابراہیم خلیل کو 13 دسمبر کو کوئٹہ شہر کے نواحی علاقے ماڈل ٹاﺅن سے نامعلوم مسلح افراد نے اُس وقت اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی گاڑی میں کلینک سے گھر جا رہے تھے۔

ان کے اغوا کے خلاف کوئٹہ میں ڈاکٹر مسلسل احتجاج کر رہے تھے، جس کے دوران ڈاکٹروں نے سرکاری اسپتالوں کی ’او پی ڈیز‘ کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG