رسائی کے لنکس

سفارت خانے میں سعودی اُمور کے انچارج، عبدالوہاب الہاربی نے علاج معالجے کی خاطر بھارت آنے والے سعودی شہریوں کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ وہ ایسے انسانی اعضاء کی فراہمی کا دعویٰ کرنے والے ہسپتالوں سے دھوکہ نہ کھائیں

نئی دہلی میں سعودی سفارتخانے کے حکام نے بھارت آنے والے سعودی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بھارت میں قیام کے دوران بھارت کے غریب شہریوں کے گردے مت خریدیں۔

سفارت خانے میں سعودی اُمور کے انچارج، عبدالوہاب الہاربی نے علاج معالجے کی خاطر بھارت آنے والے سعودی شہریوں کو سختی سے تنبیہ کی ہے کہ وہ ایسے انسانی اعضاء کی فراہمی کا دعویٰ کرنے والے ہسپتالوں سے دھوکہ نہ کھائیں۔

آجکل سوشل میڈیا پر ہسپتالوں کی طرف سے اشتہارات گردش کر رہے ہیں جن میں خاص طور پر بیرونِ ملک سے علاج کی خاطر بھارت آنے والے افراد کو انسانی اعضاء کی پیوند کاری کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

سعودی سفارتی اہلکار کا کہنا ہے کہ غریب بھارتی شہریوں کی طرف سے بیچے گئے انسانی اعضاء اور خاص طور پر گردوں کی پیوند کاری کراتے ہوئے ممکن ہے کہ سعودی شہری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہوں۔

سعودی اخبار ’مکہ‘ نے یہ خبر دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی خلاف ورزیوں پر بھارتی حکام کی جانب سے سخت سزاؤں کا خطرہ موجود ہے۔

سعودی اہلکار نے بھارتی گھریلو ملازمین فراہم کرنے والے ایسے دلالوں سے بھی ہوشیار رہنے کی ہدایت کی ہے جو یہ کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ بھارتی حکام گھروں میں کام کرنے والی عورتوں اور آیا کو ریاض میں موجود بھارتی سفارت خانے یا جدہ کے قونصل خانے کے ذریعے دستخط شدہ تحریری معاہدے کے بغیر ملازمت فراہم کرنے کی ممانعت کرتے ہیں۔ ایسے تحریر ی معاہدوں کیلئے بھارت کی وزارت محنت کی منظوری بھی لازمی ہے۔

سفارتی اہلکار کے مطابق، گزشتہ برس 72,452 سعودی شہریوں نے بھارت کا سفر کیا جن میں سے 61,054 سیاحت کیلئے، 2,333 علاج معالجے کیلئے، 2,701 اعلیٰ تعلیم کیلئے اور 2,208 کاروباری ویزے پر بھارت آئے۔

الہاربی نے سعودی اخبار ’البلاد‘ کو بتایا کہ سعودی شہری عام طور پر بھارت میں سیاحت اور علاج معالجے کی خاطر کیرالا، کرناٹکا اور راجستان جانا پسند کرتے ہیں۔ تاہم، سعودی شہریوں کیلئے ضروری ہے کہ اُن کے پاسپورٹ پر بھارتی ویزے کی مہر لگی ہوئی ہو اور جس قسم کا ویزہ ہو اُس پر کاربند رہیں۔

غیر ملکی سیاحوں کو بھارت میں مذہب کی تبلیغ، سیٹلائیٹ فون لانے یا بین الاقوامی ڈرائیور لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق، بھارت میں انسانی اعضاء کا کاروبار کرنے والے گینگز کی طرف جرائم کے مافیہ کے ساتھ اشتراک کے ساتھ انسانی اعضاء کی اسمگلنگ بڑھ گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG