رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کی امریکی پابندیوں پر شدید نکتہ چینی


صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے چیئرمین کم ہنوئی میں سربراہ ملاقات کے دوران چہل قدمی کر رہے ہیں۔ 6 مارچ 2019

شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے ’’مخالف قوتوں‘‘ کی طرف سے شمالی کوریا پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اُن کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن آج جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کر رہے ہیں۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ یہ غلط فہمی ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث شمالی کوریا گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ شمالی کوریا سوشلسٹ اقتصادی اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گا جس سے ’’مخالف قوتوں‘‘ کو شدید دھچکہ لگے گا۔

جنوبی کوریا کے لیڈر مون جائے اِن جمعرات کی شام صدر ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں اپنی ملاقات کے دوران متوقع طور پر اُنہیں اس بارے میں قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ شمالی کوریا پر عائد پابندیاں نرم کی جائیں تاکہ اس ملک کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی تلفی سے متعلق بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا جا سکے۔

امریکہ اور شمالی کوریا کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ اُس وقت سے منقطع ہے جب ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں گزشتہ سربراہ ملاقات بغیر کسی سمجھوتے کے ختم ہو گئی تھی۔

بتایا جاتا ہے کہ کوئی سمجھوتہ طے نہ پانے کی وجہ یہ تھی کہ شمالی کوریا کے لیڈر کم، امریکہ کی طرف سے پابندیاں نرم کرنے کی سست رفتاری سے مطمئن نہیں تھے۔

شمالی کوریا کے اہل کاروں نے خبردار کیا ہے کہ چیئرمین کم، جلد ہی یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ آیا امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ مکمل طور پر بند کرتے ہوئے جوہری اور میزائل تجربات دوبارہ شروع کئے جائیں یا نہیں۔

یہ اعلان اس ہفتے شمالی کوریا کی پارلیمان کے اجلاس کے دوران سامنے آ سکتا ہے۔ شمالی کوریا کے لیڈر کم نے اب تک کوئی سخت بیان دینے سے گریز کیا ہے جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ وہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی سربراہ ملاقات کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں۔

تاہم صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کے ساتھ مزید بات چیت کے لئے پر اُمید ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ چیئرمین کم کے ساتھ اُن کے قریبی تعلق کی وجہ سے اُنہیں جوہری ہتھیاروں سے متعلق سمجھوتہ طے ہونے کی توقع ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا کے مذاکرات درست سمت میں آگے نہیں بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ کے معروف اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے بدھ کے روز ایک مضمون میں کہا ہے کہ ہنوئی میں گزشتہ سربراہ ملاقات کے بعد سے امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان اہل کاروں کی سطح پر بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے اور شمالی کوریا نے مزید بات چیت کی امریکی درخواست کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا ہے۔

ایشیا پالیسی کے ایک ماہر نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے بعد وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ امریکی اہل کاروں نے ’’نیویارک چینل‘‘ سے موسوم رابطوں کے انتظام کے ذریعے شمالی کوریائی اہل کاروں سے رابطے کی کوشش کی ہے تاہم اُنہیں اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

اُدھر مرکز برائے سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز نے کمرشل سٹلائٹ کے ذریعے تجزیے سے یہ انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا باقاعدہ فوجی پریڈ کا سلسلہ شروع کرنے والا ہے جو امریکہ اور خطے کے ملکوں کے لئے اشتعال کا باعث بن سکتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG