رسائی کے لنکس

logo-print

میڈیکل رپورٹ میں کم سن ملازمہ کنزیٰ پر تشدد کی تصدیق


تشدد کا نشانہ بننے والی گھریلو ملازمہ کنزیٰ

راول پنڈی میں خاتون فوجی افسر اور ان کے شوہر کے ہاتھوں مبینہ طور پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کیس میں تحقیقات جاری ہیں اور میڈیکل رپورٹ میں کم سن ملازمہ کنزیٰ پر تشدد ثابت ہوگیا تاہم ایڈیشنل سیشن جج نے ملزم کی عبوری ضمانت منظور کرلی ہے۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق کنزیٰ کے معدے اور آنتوں میں تشدد کی وجہ سے سوجن ہے۔ گردن اور کمر پر ناخنوں کے نشانات ہیں جب کہ کندھا اور بازو بھی نہیں ہل رہا۔ دائیں کندھے کے پیچھے اور کھوپڑی پر بھی پرانے زخموں کے نشان ہیں۔

پولیس نے اس کیس میں ملوث خاتون فوجی افسر میجر عمارہ ریاض کے خلاف کارروائی کے لیے ملٹری پولیس کو آگاہ کردیا ہے۔ سی پی او راول پنڈی احسن عباس کہتے ہیں کہ آرمی حکام نے انہیں ہر ممکن کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔

کیا کسی فوجی افسر کو عام پولیس گرفتار کرسکتی ہے؟

اس حوالے سے قانون دان کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ قانون کے مطابق کسی حاضر سروس فوجی افسر کا نام ایف آئی آر میں آنے پر پولیس اس افسر کو گرفتار کر سکتی ہے لیکن اگر اس افسر کا کمانڈنگ افسر ملٹری پولیس کی مدد سے اس کیس کا تمام ریکارڈ عام پولیس سے منگوا لے تو بھی اس افسر کے خلاف فوج کارروائی کر سکتی ہے۔

دوسری جانب کنزیٰ تشدد کیس میں ملزم ڈاکٹر محسن کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی۔ ایڈیشنل سیشن جج راولپنڈی طاہر اسلم نے 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا اور کیس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔

کنزیٰ کے حوالے سے وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کہتی ہیں کہ میں نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ داران کو گرفتار کرکے سخت کارروائی کی جائے۔

پاکستان میں گھریلو ملازم بچیوں پر تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی ماضی میں ایسے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ ایک ایسے ہی واقعہ میں ایک ایڈیشنل سیشن جج راجہ خرم علی خان اور ان کی اہلیہ ماہین ظفر کے خلاف کم سن گھریلو ملازمہ طیبہ پر تشدد کا مقدمہ چلایا گیا اور اس وقت وہ دونوں ایک ایک سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG