رسائی کے لنکس

پاکستانی نژاد خضر خان کی امریکی کمشنر برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے عہدے کے لئے نامزدگی


خضرخان وائس آف امریکہ کے ایک پروگرام میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو

صدر بائیڈن نے پاکستانی نژاد وکیل خضرخان کو امریکی فوجیوں اور مذہبی آزادیوں کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکی کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی میں کمشنر کے عہدے کے لئے نامزد کیا ہے۔ خضر خان عراق میں ایک کار بم دھماکے میں جان دینے والے ایک سابق امریکی فوجی کیپٹن ہمایوں کے 'گولڈ سٹار' والد ہیں۔ ان کے بیٹے کیپٹن ہمایوں کو جرات اور بہادری سے ملک کے لئے جان قربان کرنے کی وجہ سے بعد از مرگ برانز سٹار اور پرپل ہارٹ کے اعزازات سے نوازا گیا تھا اور واشنگٹن ڈی کے قریب آرلنگٹن کے فوجی قبرستان میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز امریکی آئین کی خواندگی اور قومی اتحاد کے پراجیکٹ کے ایک بانی کی حیثیت سے عقیدے کی آزادی کو انسانی عظمت کے ایک کلیدی جزو پر اجاگر کرنے میں خضر خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اعلان میں لکھا کہ خضرخان نے اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ سابق فوجیوں، حاضر سروس مرد و خواتین فوجیوں اور ان کے خاندانوں کی قانونی مدد کے لیے وقف کیا ہے۔

خضرخان کے علاوہ وائٹ ہاؤس نے راشد حسین کو بین الاقوامی مذہبی آزادی کے لیے ایمسیڈر ایٹ لارج اور ڈیبرا لیپس ٹیڈ کو یہودی مخالف واقعات پر نظر رکھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی سفیر مقرر کیا ہے۔

خضر خان نے 2020 کے صدارتی انتخابات کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے صداراتی امیداور کے طور پر صدر بائیڈن کی حمایت کی تھی۔

خضر خان نے سن 2016 میں اس وقت امریکہ بھر میں توجہ حاصل کر لی تھی جب انہوں نے ڈیموکریٹ پارٹی کے کنونشن میں اس وقت کے صدارتی امیدوار سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر مذہبی آزادیوں کے حوالے سے ان کے ایک بیان پر تنقید کی تھی۔

امریکی شہر فلاڈیلفیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنونشن کے موقع پر خطاب میں پاکستانی نژاد امریکی شہری خضرخان نے کہا کہ اُن کا 27 سالہ بیٹا کیپٹن ہمایوں خان 2004 میں عراق میں ایک کار بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اُن کے بیٹے نے امریکہ کے خاطر اپنی جان قربان کی۔

خضر خان ڈیموکریٹک کنونشن میں اپنی تقریر کے دوران امریکی آئین کی کاپی لہرا رہے ہیں کہ اس میں تمام امریکیوں کے لیے برابری کے حقوق کا وعدہ کیا گیا ہے۔2016
خضر خان ڈیموکریٹک کنونشن میں اپنی تقریر کے دوران امریکی آئین کی کاپی لہرا رہے ہیں کہ اس میں تمام امریکیوں کے لیے برابری کے حقوق کا وعدہ کیا گیا ہے۔2016

خضر خان نے اپنے کوٹ کی جیب سے امریکہ کے آئین کی کاپی نکالتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ ڈونلڈ ٹرمپ کو دے سکتے ہیں۔

اپنی اہلیہ کے ساتھ اسٹیج پر کھڑے خضر خان نے آئین کی کاپی لہراتے ہوئے کہا کہ ’’اس میں آزادی اور برابری کے تحفظ کے الفاظ دیکھیں۔‘‘

اُنھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ آپ آرلنگٹن کے قبرستان جائیں اور اُن بہادر امریکیوں کی قبروں کو دیکھیں جہنوں نے امریکہ کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں۔ وہاں آپ کو ہر مذہب، نسل اور جنس کے لوگ ملیں گے۔‘‘

خضر خان اپنی اہلیہ غزالہ خان کے ساتھ وائس آف امریکہ کے ایک ٹی وی شو میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو
خضر خان اپنی اہلیہ غزالہ خان کے ساتھ وائس آف امریکہ کے ایک ٹی وی شو میں شریک ہیں۔ فائل فوٹو

خضر خان 1980 میں امریکہ میں منتقل ہوئے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ وہ اور اُن کی اہلیہ محب وطن مسلمان امریکی ہیں۔ انہوں نے ہارورڈ سے تعلیم حاصل کی اور وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں۔

خضر خان کے اس بیان کے بعد امریکہ میں آئین کی کاپیاں بڑی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ آن لائن کتابوں کی فروخت کی مشہور ویب سائٹ 'ایمزون' کے مطابق اس بیان کے چند روز کے اندر اس نے امریکی آئین کی دس لاکھ کاپیاں فروخت کیں جو کہ اس سائٹ پر اس وقت تک کی سب سے زیادہ اور مجموعی طور پر فروخت ہونے والی دوسری بڑی تعداد تھی۔

خضر خان شارلٹس ول ورجینیا میں رہتے ہیں۔ وہ تین کتابوں کے مصنف ہیں، جس میں

'ایک امریکی خاندان: امید اور قربانی کی یادیں'(An American Family-A Memoir of Hope and Sacrifice)

،'ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی بنیادی دستاویز' (Founding Documents of the United States of America)

'اور یہ ہمارا آئین ہے'

(This is Our Constitution)

شامل ہیں۔

(اس خبر کے لیے کچھ مواد سی این این اور پولیٹیکو سے لیا گیا)

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG