رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی و جنوبی کوریا کے حکام کی ہنگامی بات چیت


واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما کو جزیرہ نما کوریا کی صورتحال سے باخبر رکھا جا رہا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے ان کا ملک اپنے اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ کھڑا ہے اور اس صورتحال پر اس سے قریبی رابطے میں ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا کے عہدیداروں نے اتوار کی سہ پہر طویل ترین مشاورت کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا ہے جس کا مقصد جزیرہ نما خطے میں جنگ کے خطرے سے بچنا ہے۔

ہفتہ کو شروع ہونے والی بات چیت دس گھنٹوں تک جاری رہی اور اس میں ہونے والے تبادلہ خیال کے بارے میں حکام کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا اور نہ ہی معلوم ہو سکا ہے کہ آیا اس میں کوئی پیش رفت ہوئی یا نہیں اور یہ کب تک جاری رہیں گی۔

پیانگ یانگ سے سیول کو متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے ہفتہ کی شام تک اس کے خلاف سرحد پار سے پروپیگنڈا نشریات بند نہ کیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ جنوبی کوریا نے سرحد پر متعدد اسپیکر لگا کر یہ نشریات شروع کر رکھی تھیں۔

تاہم حتمی وقت گزر جانے کے بعد بھی نہ تو سیول نے یہ اسپیکر ہٹائے اور نہ ہی پیانگ یانگ کی طرف سے کوئی خطرناک اقدام دیکھنے میں آیا۔

اس کشیدگی کے تناظر میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی ملاقات غیر فوجی علاقے پنمونجوم میں شروع ہوئی تھی۔

ادھر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا ہے کہ صدر براک اوباما کو جزیرہ نما کوریا کی صورتحال سے باخبر رکھا جا رہا ہے۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے ان کا ملک اپنے اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ کھڑا ہے اور اس صورتحال پر اس سے قریبی رابطے میں ہے۔

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہئی کے مشیر قومی سلامتی کم کوان جن اور وزیر یونیفیکیشن ہانگ یونگ پیو اپنے شمالی کوریائی ہم منصبوں سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG