رسائی کے لنکس

'خیبر پختونخوا، بلوچستان کی نشستوں میں اضافہ ہوگا'


پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں موجود سیاسی جماعتوں نے ملک میں نئی حلقہ بندیوں کے لیے آئینی ترمیم کے مسودۂ قانون کو حتمی شکل دے دی ہے جس کے بعد اب اسے جمعرات کو قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

حکومت نے نئی حلقہ بندیوں سے متعلق ایک مسودۂ قانون تیار کیا تھا جس پر پارلیمانی رہنماؤں کے دو روز سے جاری اجلاس میں صلاح و مشورے کے بعد بدھ کو اسے حتمی شکل دی گئی۔

اجلاس کے صدارت کرنے والے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بدھ کو پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ اس مسودے میں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں کی تعداد برقرار رہے گی لیکن آبادی کے لحاظ سے مختلف صوبوں میں قومی اسمبلی کی نشستوں میں کمی بیشی ہو گی۔

"خیبر پختونخوا سے عام نشستوں کی تعداد 39 جب کہ خواتین کے لیے 9 ہے جس میں اب چار عام نشستیں اور ایک خواتین کی نشست کا اضافہ ہو جائے گا۔ اسی طرح بلوچستان میں دو عام نشستیں اور ایک خواتین کی نشست بڑھ جائے گی۔ اسلام آباد میں بھی ایک عام نشست کا اضافہ ہو گا۔"

ان کے بقول پنجاب کی 141 عام نشستوں میں سے سات جب کہ خواتین کی مخصوص 33 نشستوں میں سے دو کم ہو جائیں گی۔ سندھ سے قومی اسمبلی کی 75 اور قبائلی علاقوں سے 12 نشستوں کی تعداد میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوگی۔

پارلیمانی سیاسی جماعتوں نے مردم شماری کے عبوری نتائج کو مدِنظر رکھتے ہوئے نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں آئینی ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن اس ضمن میں اپنا کام شروع کرے گا۔

اسپیکر ایاز صادق نے بتایا کہ "آبادی کو شمال سے شروع کریں گے جو (قومی اسمبلی کی) پہلی نشست ہے وہاں سے آبادی (کی نشستوں کے لحاظ سے تقسیم) کو پورا کرتے جائیں گے۔ سات لاکھ 80 ہزار کی آبادی پر ایک سیٹ ہوگی۔"

قومی اسمبلی کا حلقہ این اے ون پشاور میں ہے۔

حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کو مردم شماری کے عبوری نتائج پر تحفظات تھے اور ان جماعتوں کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان تحفظات کو اگر دور نہ کیا گیا تو عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

لیکن ان جماعتوں کے رہنماؤں کے بقول فی الوقت انہوں نے ترمیم کے مسودے پر اتفاق اس بنا پر کیا ہے تاکہ آئندہ عام انتخابات وقت پر اور شفاف انداز میں ہو سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG