رسائی کے لنکس

logo-print

علی وزیر پر تشدد کے الزامات بے بنیاد ہیں: حکومت


فائل فوٹو

خیبر پختونخوا حکومت نے پشتون تحفظ تحریک کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی علی وزیر پر پشاور جیل میں تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیل قوانین کے مطابق، انھیں تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

پشتون تحفظ تحریک کی حمایتی پاکستان ورکرز پارٹی کے صوبائی صدر شہاب خٹک ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ جیل میں علی وزیر کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

شہاب خٹک ایڈووکیٹ نے جیل میں پی ٹی ایم رہنماؤں علی وزیر اور محسن داوڑ سے ملاقات بھی کی تھی۔

صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں علی وزیر پر تشدد کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ محسن داوڑ اور علی وزیر جوڈیشل ریمانڈ پر پشاور جیل میں قید ہیں اور دونوں ممبران قومی اسمبلی کو جیل قوانین کے مطابق تمام سہولیات میسر ہیں۔

حکام کے مطابق محسن داوڑ اور علی وزیر کو جیل میں ایک الگ سیل دیا گیا ہے جہاں ان کی سہولت کے لیے دو مشقتی فراہم کیے گئے ہیں۔

جیل حکام کے مطابق دونوں پی ٹی ایم رہنماؤں پر کچھ پابندیاں عائد ہیں۔ ان سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو ڈپٹی کمشنر سے خصوصی اجازت نامہ لینا پڑتا ہے۔ یہ اقدامات دونوں اراکین اسمبلی کی حفاظت کے پیش نظر کیے گئے ہیں۔

معاوضے میں تاخیر

ادھر 26 مئی کو شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل کے علاقے خڑکمر میں سیکورٹی فورسز اور پشتون تحفظ تحریک کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ میں مرنے والوں کے لواحقین اور زخمیوں میں معاوضے کی تقسیم تعطل کا شکار ہے۔

شوکت یوسفزئی کے مطابق حکومتی سطح پر معاوضے کی تقسیم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ انتظامی مسئلے یا شناخت کی بنیاد پر تاخیر ہو رہی ہو۔

اطلاعات کے مطابق، ابھی تک صرف پانچ خاندانوں میں معاوضے کی رقوم تقسیم کی جا سکی ہیں جب کہ باقی متاثرہ خاندانوں اور زخمیوں میں معاوضے کی رقوم یا چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ تاخیر کا شکار ہے۔

صوبائی حکام نے واقعے میں ہلاک ہونے والے 15 افراد کےخاندانوں کو 25 لاکھ فی خاندان، جب کہ زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پشتون تحفظ تحریک کے رہنماؤں کے بقول، اس جھڑپ میں 22 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہو ئے ہیں۔

وزیرستان کے حالات اب کیسے ہیں

اطلاعات کے مطابق، شمالی وزیر ستان کی تحصیل دتہ خیل میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی جاری ہے۔ علاقے میں کرفیو نافذ ہے جب کہ دیگر علاقوں میں صورت حال بتدریج معمول پر آ رہی ہے۔

گزشتہ ماہ 26 مئی کو فوج اور پی ٹی ایم کی جھڑپ کے بعد اراکین قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ سمیت 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق، پی ٹی ایم رہنماؤں نے ضمانت کے لیے پشاور ہائی کورٹ اور انسداد دہشت گردی کی عدالتوں سے رجوع کے لیے غور شروع کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG