رسائی کے لنکس

logo-print

خیبرپختونخواہ: نسبتاً پرامن علاقوں میں فوج کے بجائے پولیس کی تعیناتی کا فیصلہ


اجلاس میں دہشت گردوں کی ہر طرح سے معاونت کرنے والوں، لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے گورنر مہتاب احمد خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن علاقوں میں سلامتی کی صورتحال بہتر ہو گئی ہے وہاں سے سکیورٹی فورسز کی بجائے اب پولیس کو تعینات کیا جائے گا۔

گورنر ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں یہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ آیا کن علاقوں سے اور کب فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کا انخلا ہو گا۔

یہ صوبہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں سے ملحق ہے اور دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار رہا ہے۔

قبائلی علاقوں میں گزشتہ چند سالوں سے پاکستانی فوج شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کرتی رہی ہے جب کہ گزشتہ برس اس نے شمالی وزیرستان میں ضرب عضب کے نام سے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے یہاں نوے فیصد علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کرنے کا بتایا ہے۔

اس کے علاوہ صوبے کے مختلف علاقوں بشمول مرکزی شہر پشاور میں بھی امن و امان کے لیے فوج کے سیکورٹی کے دیگر اداروں کے اہلکار تعینات رہے ہیں۔

بیان کے مطابق گورنر سردار مہتاب احمد خان کا کہنا تھا کہ عسکریت پسندوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے بڑی قربانیاں دی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

انھوں نے ایک بار پھر ملک سے دہشت گردی و انتہا پسند کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم ظاہر کیا۔

گورنر کی زیر صدارت ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل پر پیش رفت کا جائزہ بھی لیا گیا۔

اجلاس میں دہشت گردوں کی ہر طرح سے معاونت کرنے والوں، لاؤڈ اسپیکر کا غلط استعمال کرنے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

علاوہ ازیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاق سے فرنٹیئر کانسٹبلری کی آٹھ پلاٹون کی صوبے کو واپسی کے لیے بھی رابطہ کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG