رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا: اسٹائلش داڑھیاں نہیں بنائیں گے، ہیئر ڈریسرز انجمن کا اعلان


فائل فوٹو

شریف کاہلوں نے کہا کہ ان کی انجمن کے افراد نے یہ فیصلہ کثرتِ رائے کی بنیاد پر کیا ہے لیکن اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوگا۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں حجاموں کی انجمن کے صدر نے مردوں کی اسٹائلش داڑھی بنانے کو ایک غیر اسلامی فعل قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ ان کی انجمن سے وابستہ کوئی حجام ایسی داڑھی نہیں بنائے گا۔

صوبے کی ہیئر ڈریسرز ایسوسی ایشن کے صدر شریف کاہلوں نے پیر کو پشاور میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ ہر مکتبۂ فکر کے علما سے مشورے کے بعد کیا ہے۔

شریف کاہلوں نے کہا کہ داڑھی رکھنا اسلام میں سنت ہے لہذا کسی کو بھی سنتِ رسول کے ساتھ مذاق کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی انجمن نے حجامت کے پیشے سے وابستہ افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلے کی پابندی کریں۔

ایک سوال کے جواب میں شریف کاہلوں نے واضح کیا کہ انہیں یا ان کے پیشے کے دیگر افراد کو اس بارے میں کسی قسم کی کوئی دھمکی ملی ہے اور نہ انہوں نے یہ فیصلہ کسی دباؤ میں کیا ہے۔

شریف کاہلوں نے کہا کہ ان کی انجمن کے افراد نے یہ فیصلہ کثرتِ رائے کی بنیاد پر کیا ہے لیکن اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ فیصلہ ملک بھر میں نافذ العمل ہو اور اس سلسلے میں وہ دیگر صوبوں کی ہیئر ڈریسرز ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں سے بھی رابطے اور بات چیت کر رہے ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حکام گزشتہ چند ہفتوں سے مبینہ طور پر حجام برادری کو اسٹائلش داڑھیاں بنانے سے منع کرتے آرہے ہیں اور اس سلسلے میں صوابی، مردان، بونیر اور دیر کے اضلاع میں سرکاری اعلامیے بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

مردوں کے اسٹائلش داڑھیاں بنوانے اور رکھنے پر بحث کا آغاز 13 جنوری کو کراچی میں ایک جعلی پولیس مقابلے میں جنوبی وزیرستان کے نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کے بعد ہوا تھا جو ماڈلنگ کا شوقین تھا۔

صوبے کے بعض مذہبی حلقوں نے بھی مردوں کے اسٹائلش داڑھیاں رکھنے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG