رسائی کے لنکس

logo-print

خیبر پختونخوا میں اقلیتی مذہبی پیشواؤں کے لیے وظیفہ مقرر


اس سال کے پہلے مہینے میں صوبائی کابینہ نے صوبے میں موجود تقریباً 28 ہزارمساجد کے آئما مساجد کو بھی ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا تھا جس میں ہر مسجد کے امام کو دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت مذہبی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے پنڈتوں اور پادریوں کو ماہانہ وظیفہ دے گی۔اقلیتی مذہبی پیشواؤں کو وظیفے دینے کا فیصلہ آج خیبر پختونخواہ کی صوبائی کابینہ کے 50ویں اجلاس میں ہوا جس کی صدارت خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کررہے تھے۔

اس سال کے پہلے مہینے میں صوبائی کابینہ نے صوبے میں موجود تقریباً 28 ہزارمساجد کے آئما مساجد کو بھی ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان کیا تھا جس میں ہر مسجد کے امام کو دس ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے۔ اس پر سالانہ تین ارب 25 کروڑ روپے کا خرچہ کیا جارہا ہے۔

کابینہ اجلاس میں آئما کرام کے طرز پر اقلیتوں کے مذہبی پیشواؤں کو بھی ماہانہ وظیفے کی منظوری دے دی گئی ہے جس میں خیبر پختونخوا بھر سے مختلف 293 گردواروں، مندروں اور گرجا گروں میں خدمات انجام دینے والے پیشواؤں کو یہ وظیفہ دیا جائے گا

وظیفہ وصول کرنے والوں میں عیسائی، ہندو اور سکھ مذہب کے علاوہ ضلع چترال کی وادی کیلاش میں آباد کیلاشی مذہب کے پیشوا بھی شامل ہونگے۔

اس منصوبے پر سالانہ 14 کروڑ روپے خرچ ہونگے۔

سکھ کمیٹی آف پاکستان کے چیئرمین رادیش سنگھ ٹونی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسے ایک اچھا اقدام قرار دیا ۔ مگر ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اسے کابینہ کے اجلاس میں منظور کرنے کے بجائے صوبائی اسمبلی سے قانون کی شکل میں پاس کیا جاتا تو بہت بہتر ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت چند ماہ رہ گئی ہے۔ اب آئندہ آنے والی حکومت اس پروگرام کو جاری رکھتی ہے یا ختم کرتی ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسے صوبائی اسمبلی سے قانون کا درجہ دیا جاتا تو کوئی بھی اسے اسانی سے ختم نہیں کرسکتا تھا۔

رادیش سنگھ نے کہا کہ ایک مزدور کی کم از کم اجرت 15 ہزار روپے مقرر ہے مگر مذہبی لوگوں کو دس ہزار روپے فئے گئے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے تھا کہ ہمارے مذہبی پیشواؤں کو کم از کم ایک مزدور جتنی اجرت تو دیتے۔

مساجد کے آئمہ کرام اور اقلیتوں کو وظیفہ دینے کے اس اقدام کو مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنما زاہد کمار نے کہا کہ الیکشن کے قریب اس قسم کا اقدام لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے اور الیکشن پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے اقلیتی پیشواؤں کو ماہانہ وظیفہ دینے کا اعلان رواں سال فروری میں کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG