رسائی کے لنکس

خیبر پختونخوا کے اسکولوں میں اخلاقیات بطور مضمون شامل

  • شمیم شاہد

فائل فوٹو

ترجمان نے بتایا ہے کہ اخلاقیات کو بطورِ مضمون نصاب میں شامل کرنے سے پرامن اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں مددملے گی۔

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں اخلاقیات پر مشتمل مضامین نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایک ماہ کے اندر اساتذہ کو 35 اخلاقی موضوعات پر درس دینے کی ہدایت کی ہے۔

خیبر پختونخوا کے محکمۂ تعلیم کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اگلے تعلیمی سال سے اخلاقیات کو بطورِ مضمون نصاب میں شامل کیا جارہا ہے اور اس سلسلے میں فی الوقت 35 مختلف موضوعات کو اس مضمون میں شامل کیا گیا ہے۔

ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت کے اس فیصلے کا مقصد نہ صرف مذہبی انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانا ہے بلکہ طلبہ و طالبات کو ان کی معاشرتی ذمہ داریوں سے بھی آگاہ کرنا ہے۔

اخلاقیات کے مضمون میں جو موضوعات شامل کیے جارہے ہیں ان میں صحت، ماحولیات، احترام، انسانی دوستی، صلۂ رحمی، کفایت شعاری، دوسروں کی مدد، خواتین کی عزت اور بڑوں کا احترام شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ اخلاقیات کو بطورِ مضمون نصاب میں شامل کرنے سے پرامن اور باوقار معاشرے کی تشکیل میں مددملے گی۔

ماہرینِ تعلیم اور سیاسی کارکنوں نے بھی صوبائی حکومت کے اس اقدام کی تعریف کی ہے۔

ماہرِ تعلیم سید ساجد شاہ کا کہنا ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر نہ صرف عام لوگ بلکہ یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ و طالبات بھی انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ و طالبات کو انتہا پسندی سے دور رکھنے سے متعلق آگاہی بیدار کرنے کی بھرپور اور طویل المدت مہم چلائی جائے۔

چند روز قبل خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے مساجد میں قائم مکتب اسکولوں کے اساتذہ کو بھی پرائمری ایجوکیشن ٹیچر کا درجہ دیا ہے جس کے بعد اب ان اساتذہ کو اعزازیے کے بجائے ماہوار تنخواہیں دی جائیں گی۔

خیبر پختونخوا حکومت نے چند مہینے قبل پہلی سے لے کر جماعت دہم تک قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم کو بھی لازمی قرار دے دیا تھا جب کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنےکے لیے لگ بھگ 38 ہزار اساتذہ بھرتی کیے جارہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG