رسائی کے لنکس

چھ عرب ملکوں کا قطر سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان


سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز گزشتہ سال خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس میں شریک ہیں (فائل)

سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت چھ عرب ملکوں نے "دہشت گردی" اور "بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزیوں" کا الزام عائد کرتے ہوئے قطر کے ساتھ تمام سفارتی، زمینی، فضائی اور سمندری رابطے منقطع کر دیے ہیں۔

سعودی عرب کا پیر کو کہنا تھا کہ یہ اقدام "قومی سلامتی کے تحفظ" کے لیے کیا گیا جب کہ بحرین نے قطریوں پر دہشت گردی کی حمایت اور بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔

قطر کے ساتھ تمام زمینی، فضائی اور بحری راستے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب،، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی حکومتوں نے اپنی حدود میں موجود قطری شہریوں کو 14 روز کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا ہے۔

قطر کو یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی میں مصروف سعودی عرب کی سربراہی میں قائم عرب ملکوں کے فوجی اتحاد سے بھی نکال دیا گیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ یمن میں موجود قطری فوجیوں کو وطن واپس بھیجا جارہا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی حکومت نے "بین الاقوامی قانون کے تحت فراہم کردہ اختیار اور قومی سلامتی کو دہشت گردی و انتہا پسندی سے تحفظ دینے کے لیے" قطر کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا۔

بحرین کا کہنا تھا کہ "قطر کی طرف سے بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے عدم استحکام کی کوششیں جاری رکھنے پر" تعلقات ختم کر دیے گئے ہیں۔

مصر کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ قطر کی طرف سے مبینہ طور پر دہشت گرد گروپوں کی حمایت پر یہ تعلقات منقطع کیے گئے۔

قطر کے بائیکاٹ کا ابتدائی اعلان سعودی عرب، مصر، بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں خانہ جنگی کا شکار یمن کی بین الاقوامی حمایتِ یافتہ حکومت اور لیبیا کے مشرقی علاقے میں قائم حکومت نے بھی قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا۔

قطر کے تعلقات خطے کی دیگر عرب ریاستوں اور سعودی عرب کے ساتھ گزشتہ کچھ برسوں سے تناو کا شکار چلے آ رہے تھے۔

خلیجی ریاستیں قطر کو ایران اور اخوان المسلمین جیسی اسلامی تحریکوں کے انتہائی قریب سمجھتی ہیں۔

قطری نیوز ایجنسی نے یہ خبر دی ہے کہ قطر نے بحرین، مصر، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے اور اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ "کشیدگی" ہے۔

حالیہ دنوں میں ایک خبر بھی سامنے آئی تھی جسے بعد میں غلط قرار دیا گیا تھا جس میں قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے منسوب یہ بات لکھی گئی تھی کہ ایران ایک "اسلامی قوت" ہے اور قطر کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات "اچھے" ہیں۔

لیکن خبر کی تردید کے باوجود کشیدگی میں کسی طور پر کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

قطر کی سرکاری سرپرستی میں نکلنے والے روزنامہ 'الریا' نے متحدہ عرب امارات کے صحافیوں کی تصاویر شائع کرتے ہوئے انھیں "کرائے کے قاتل" قرار دیا۔

سعودی عرب کی ایک نیوز ویب سائٹ پر ایک کارٹون شائع کیا گیا جس میں ایک قطری شخص کو خلیجی پڑوسی سے ہاتھ ملاتے ہوئے دکھایا گیا جب کہ یہی شخص ہاتھ ملانے والے کی پیٹھ میں چھرا بھی گھونپ رہا ہے۔

2014ء میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے قطر سے اپنے اپنے سفرا کو واپس بلا لیا تھا جس کی وجہ قطر کی طرف سے اخوان المسلمین کی حمایت تھی۔ اس گروپ کو بعض خلیجی ریاستوں کے شاہی خاندان اپنے اقتدار کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

بائیکاٹ کے حالیہ اعلان کے بعد متحدہ عرب امارات کی تمام بڑی ایئرلائنز بشمول اتحاد اور ایمریٹس نے قطر کے لیے تمام پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ مصر نے اپنی بندرگاہوں پر قطری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG