رسائی کے لنکس

آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’کلبھوشن یادیو نے اپنی رحم کی اپیل میں پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف کرتے ہوئے، اِن واقعات میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے‘‘

پاکستان میں زیر حراست اور فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے کلبھوشن یادو نے اپنی سزا کے خلاف پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے رحم کی اپیل کی ہے۔

فوج کے شعبہٴ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک مختصر بیان کے مطابق، ’’کلبھوشن یادیو نے اپنی رحم کی اپیل میں پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان واقعات میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے‘‘۔

رحم کی اس اپیل پر فیصلہ کب تک ہوگا، اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ عالمی عدالت انصاف نے اپنے ایک عبوری حکم نامے میں پاکستان سے کہا تھا کہ کلبھوشن یادو کی سزا پر حتمی فیصلہ آنے تک عمل درآمد نا کیا جائے۔

عالمی عدالت انصاف کو پاکستان کی طرف سے یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ قانون کے مطابق کلبھوشن یادیو کو دفاع کے تمام مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ کلبھوشن یادو اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد ایران میں تجارت کر رہے تھے، جہاں سے پاکستان نے اُنھیں اغوا کیا۔

کلبھوشن کو اغوا کرنے سے متعلق بھارت کے دعوے کو پاکستان کی طرف سے رد کرتے ہوئے کہا جاتا رہا ہے کہ تین مارچ 2016 کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرکے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا، جو مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کا ایجنٹ اور بھارتی بحریہ کا حاضر سروس ملازم ہے۔

اگرچہ بھارت نے یہ تسلیم کیا تھا کہ کلبھوشن بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے۔ تاہم، بھارت کی طرف سے اس الزام کو مسترد کیا جاتا رہا کہ کلبھوشن کا تعلق 'را' سے ہے۔

پاکستان میں گرفتاری کے بعد کلبھوشن یادو کے خلاف آرمی ایکٹ کت تحت ’فیلڈ جنرل کورٹ مارشل‘ یعنی فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور اپریل 2017 میں اُنھیں موت کی سزا سنائی گئی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG