رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں ہفتے کو سڑک میں نصب بم سے ایک مسافر گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس سے دو افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

حکام کے مطابق اس بم دھماکے کی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

افغان سرحد سے ملحقہ کرم ایجنسی کا علاقہ شیعہ سنی فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں رہا ہے اور اس کے انتظامی مرکز پاڑہ چنار کو پشاور سے ملانے والی مرکزی شاہراہ پر اہل تشیع کی گاڑیوں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں ۔

کرم ایجنسی کی شیعہ برادری کے نوجوان ان حملوں کے خلاف گذشتہ چند روز سے اسلام آباد میں مظاہرے کر رہے ہیں اور اُنھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور اور پاڑہ چنار کو ملانے والی سڑک پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے شدت پسند عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے۔

XS
SM
MD
LG