رسائی کے لنکس

کرم ایجنسی کے سیکڑوں قبائلیوں کا پشاور میں احتجاجی دھرنا


فائل فوٹو

دھرنے میں شریک وسطی کرم کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اتوار کی رات پشاور پہنچے تھے۔

افغانستان سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد نے پشاور پریس کلب کے سامنے اپنا احتجاجی دھرنا شروع کردیا ہے۔

دھرنے میں شریک وسطی کرم کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اتوار کی رات پشاور پہنچے تھے اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے علاقے میں دہشت گردی سے متاثر ہونے والے افراد کو زرِ تلافی ادا کرے۔

مظاہرین کے ایک ترجمان عبدالخالق پٹھان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2009ء میں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے باعث مقامی لوگوں کو علاقے سے نقل مکانی کرنا پڑی تھی جب کہ ان کے مکانات اور دیگر املاک کو کافی نقصان پہنچا تھا۔

لیکن ان کے بقول اب تک متاثرہ افراد کو حکومت نے کوئی معاوضہ نہیں دیا ہے جس کے لیے وہ احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دھرنے پر بیٹھے مظاہرین کا ایک اور مطالبہ ہے کہ حکومت خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ان 18 ہزار خاندانوں کی بھی اپنے علاقے واپسی اور آباد کاری یقینی بنائے جو شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے باعث وسطی کرم میں پناہ گزین ہیں۔

عبدالخالق نے کہا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں وسطی کرم سے قومی اسمبلی کے حلقے میں انتخابات نہیں ہوئے تھے جس کی وجہ سے اس علاقے میں کسی قسم کا ترقیاتی کام بھی نہیں ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کے علاقے میں ترقیاتی منصوبوں پر بھی فوری کام شروع کرے۔

پیر کو دھرنے کے پہلے روز مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنما بھی احتجاجی کیمپ میں شریک ہوئے اور مظاہرین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

گزشتہ ماہ کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں کئی روز تک جاری رہنے والے محسود قبائل کے دھرنے کے بعد وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کی وادیٔ سوات میں پر امن احتجاجی دھرنوں کی روایت زور پکڑ رہی ہے۔

ان دھرنوں کے نتیجے میں وادیٔ سوات میں سکیورٹی چوکیوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جب کہ وہاں تعینات سکیورٹی اہلکاروں کے عام لوگوں کے ساتھ برتاؤ اور رویے میں بھی فرق آیا ہے۔

دریں اثنا شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے باعث سے جون 2014ء میں ایجنسی سے پڑوسی ملک افغانستان کے سرحدی صوبے خوست نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کے دوسرے مرحلے کا پیر کو آغاز ہوگیا ہے۔

حکام نے بتایا ہے کہ پیر کو پہلے روز 46 خاندان سرحدی گزر گاہ غلام خان پہنچے جنہیں بنوں کے قریب کیمپ منتقل کیا جارہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دوسرے مرحلے میں افغانستان سے 4329 خاندان واپس آئیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG