رسائی کے لنکس

logo-print

برطرف کرغز صدر کے حامیوں کے نئی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے


ہفتے کے روز جنوبی کرغزستان میں کشیدگی میں اُس وقت اضافہ دیکھا گیا جب برطرف صدر کُرمان بیگ باقی یف کے سینکڑوں حامیوں نے نئی عبوری حکومت کے خلاف مظاہرے کیے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ملک کے جنوبی شہر جلال آباد میں500افراد پر مشتمل ہجوم نے حکومت کی طرف سے وزیرِ داخلہ ، بولوٹبیک شرنیازوف کی تعیناتی پر احتجاج کر رہا تھا، اور جب مذاکرات کے لیےوزیرخود تشریف لائے تومظاہرین نے اُن پر حملہ کیا اور بوتلوں سے اُن کی کار پر دھاوا بول دیا۔

مقامی میڈیاکی اطلاع کے مطابق، کچھ مظاہرین نے ایک علاقائی عمارت پر قبضہ کر لیا، جس میں کچھ وقت کے لیے مقامی گورنر کو یرغمال بنا کر، بعد میں رہا کر دیا۔ دوسرے گروہ نے مقامی ٹیلی ویژن ا سٹیشن پر قبضہ کر لیا اور مطالبہ کیا کہ اُن کے بیان کو نشر کیا جائے، جسے بعد میں اُنھوں نے ریکارڈ کروایا۔

دارالحکومت بشکک میں ایک ہفتے کے حکومت مخالف احتجاجوں کے بعدجمعرات کے روز مسٹر باقی یف کو اپنا مضبوط گڑھ چھوڑ کر جنوبی قازقستان چلے جانے پر مجبور کیا گیا۔ احتجاج میں 84لوگ ہلاک ہوئے۔

مسٹر باقی یف، جِن پر بدعنوان اور اقربا پروری کی بنیادوں پر حکومت چلانے کا الزام ہے، ملک چھوڑتے وقت ہاتھ سے لکھی اور فیکس پر بھیجی گئی تحریر میں اپنا استعفیٰ پیش کیا۔

عبوری حکومت کی قیادت روضہ اَتُن بائے وا کر رہی ہیں ۔ اُنھوں نے اپنا اقتدار مضبوط کرنے کے لیے مسٹر بقایف کے متعدد قریبی اتحادیوں اور اہلِ خانہ کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

XS
SM
MD
LG