رسائی کے لنکس

logo-print

کرغزستان: عبوری حکومت کا سابق صدر پر مقدمہ چلانے کا اعلان


کرغزستان کے برطرف صدر کرمان بیگ باقی یف کی جانب سے باقاعدہ طور پر استعفیٰ دینے اور ملک سے زبردستی نکالے جانے کے ایک روز بعد نئی عبوری حکومت نے کہا ہے وہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے چاہتی ہے۔

جمعے کے روز ، ٹیلی ویژن پر اپنے ایک خطاب میں عبوری راہنما روزا اوتن بایفاا نے کہا کہ مسٹر باقی یف انصاف سے بچ نہیں سکتے۔مسٹر باقی یف پر ایک بدعنوان اور اقرباپرور حکومت کی قیادت کاالزام ہے۔

مز اوتن بایفا نے مسٹر باقی یف کا استعفی بھی باآواز بلند پڑھا، جس کے بارے میں عہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ رات کے وقت قزاقستان سے فیکس کے ذریعے بھیجا گیاتھا، جہاں وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ ٹہرے ہوئے ہیں۔

مسٹر باقی یف کی جلاوطنی کا انتظام امریکہ، روس اور قزاقستان کے صدور کی مدد اور یورپی یونین کی ثالثی کے ساتھ کیا گیاتھا۔ ان کی روانگی سے کرغزستان کے حالات میں استحکام آنے کی توقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بارے میں مصالحت کاروں کو یہ خدشہ تھا کہ ملک خانہ جنگی کے دھانے پر پہنچ چکاہے۔

اسی اثنا میں ، عبوری حکومت نے جمعے کے روز سابق صدر کے مزید اہم اتحادیوں کو حراست میں لے کر اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرلی ہے۔

کرغزستان کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ انہوں نے قزاقستان سے کہا ہے کہ وہ مسٹر باقی یف کے بیٹے، مورت باقی یف، سابق وزیر اعظم دانیار اوسنوف اور سابق سیکیورٹی سروسز چیف مورت سلطانوف کو ان کے حوالے کردیں۔

XS
SM
MD
LG