رسائی کے لنکس

logo-print

کرغزستان: محصور پاکستانی واپسی کے منتظر


کرغزستان میں جاری نسلی فسادات میں کئی پاکستانی بھی پھنس گئے ہیں۔ وہاں موجود پاکستانی سفارت خانہ پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی مدد کے لیے کیا کوششیں کررہاہے، یہ جاننے کے لیے وائس آف امریکہ کی شہناز عزیز نے کرغزستان کے لیے پاکستانی سفیر سے ٹیلی فون پر انٹرویو کیا۔

پاکستانی سفیرتنویر اختر خاص خیلی کا کہناتھا کہ حالیہ فسادات کے نتیجے میں کچھ پاکستانی طالب علم اپنے ہاسٹلز اور اپارٹمنٹس میں محصور ہوگئے ہیں، اور ان میں سے کئی ایک نے مدد کے پاکستانی سفارت خانے سے رابطے کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستانی طالب علموں کے نام اورپتے حاصل کرکے کرغزستان کے حکام کو دے رہے ہیں تاکہ وہ انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرسکیں۔

پاکستانی سفیر کے مطابق کرغز حکام نے پاکستانی طالب علموں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ اور کرغز وزیر خارجہ نے پاکستانی سفیر سے ملاقات میں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کررہی ہے اور انہیں فوج کے ذریعے ایئرپورٹ اور دوسری محفوظ جگہوں پر پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ اوش میں، جہاں ہنگامے ہوئے ہیں، وہاں سے کوئی فلائٹ براہ راست پاکستان نہیں جاتی۔ مسافروں کو پہلے بشکیک جانا پڑتا ہے اور پھر وہاں سے پاکستان کی فلائٹ حاصل کرنا ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اوش میں ہوائی اڈا محفوظ ہے اور وہ حکومتی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

اوش سے ایک پاکستانی طالب علم آفتاب وٹو نے وی او اے کو بتایا کہ اوش میں صورت حال بہت خراب ہے کرفیو کے نفاذ کے باوجود نسلی گروپ ایک دوسرے پر فائرنگ کررہے ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ مقامی یونیورسٹی میں لگ بھگ دو تین سو پاکستانی طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تین دن سے جاری لڑائی کی وجہ سے طالب علم اپنے اپارٹمنٹس میں محصور ہوکررہ گئے ہیں اور ان کے پاس کھانے کی چیزوں کی قلت ہے۔

آفتاب وٹونے وی او اے کو بتایا کہ شورکوٹ سے تعلق رکھنے والے انجنیئرنگ کے ایک پاکستانی طالب علم علی گولی لگنے کے بعد راستے بند ہونے کی وجہ سے بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہلاک ہوگئے۔

آفتاب وٹو کا کہنا تھا کہ محصورپاکستانیوں میں 15 طالبات بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG