رسائی کے لنکس

logo-print

کرغزستان: جلال آباد میں حکومت مخالف مظاہرے، گورنر اور قائمقام وزیر دفاع پر ہجوم کا تشدد


جنوبی کرغزستان کے علاقے میں عبوری حکومت کی جانب سے ہنگامی حالت کے نفاذ کے اعلان کے ایک دن بعد جمعرات کے روز کئی ہزار مظاہرین پر مشتمل ایک ہجوم نے اپنے غصے کے اظہار کے لیے مظاہرے دوبارہ شروع کیے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلال آباد شہر کے ریسنگ ٹریک میں کم ازکم دوہزار افراد کا مجمع اکھٹا ہوا اور دو عہدے داروں پر حملہ کیا گیا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قائمقام وزیر دفاع اسماعیل عیسیٰ کوف اور علاقائی گورنر برکت احسانوف جب پرلوگوں کو پرامن رکھنے کی کوشش کررہے تھے توانہیں ماراپیٹا گیا اور انہیں کچھ دیر کے لیے یرغمال بنا کررکھا گیا۔

کرغزستان کی عبوری حکومت نے علاقے میں ہنگامی صورت حال کا اعلان کردیا ہے اورکرغز اور ازبک باشندوں کے درمیان نسلی جھڑپوں کے بعد، جن میں سات افراد ہلاک اور کم ازکم 70 زخمی ہوگئے تھے، بدھ کے روز سے جلال آباد میں رات کا کرفیو لگادیا ہے۔

جنوبی کرغزستان میں پچھلے مہینے کرمان بیگ باقی یف کی حکومت کی برطرفی کے بعدسےبڑے پیمانے پر مظاہروں کی وجہ سے بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ حکومت اس علاقے میں، جہاں ابھی تک تک مسٹر باقی یف بڑی حمایت موجود ہے، امن وامان بحال کرنے کی کوششیں کررہی ہے۔

XS
SM
MD
LG