رسائی کے لنکس

logo-print

علاقائی سلامتی گروپ کاکرغزستان میں مداخلت پرغور


اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم یا ‘ سی ایس ٹی او’ نے صورتِ حال کا جواب دینے پرغور کرنے کےلیے پیر کے روز ماسکو میں ایک ہنگامی اجلاس کیا

جنوبی کرغزستان میں شورش پر قابو پانے کے لیے روس کی قیادت میں کام کرنے والے ایک سکیورٹی گروپ نےفوجی مداخلت کو خارج از امکان قرار نہیں دیا ہے۔

اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم یا ‘ سی ایس ٹی او’ نے صورتِ حال کا جواب دینے پرغور کرنےکے لیے پیرکےروز ماسکو میں ایک ہنگامی اجلاس کیا۔

روسی ابلاغِ عامہ نے سی ایس ٹی او کے سیکریٹری جنرل نکولے بارڈیوژاکے حوالے سے بتایا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں کاروائی کرنےکے لیے تنظیم کے پاس تمام ضروری وسائل موجود ہیں،جس میں امن کار دستے اور مرکزی ایشیائی علاقے سے تعلق رکھنے والی فوج کی فوری تعیناتی شامل ہے۔

روس نے کرغزستان میں اپنے ایئر بیس کی حفاظت کےلیے چھاتہ بردار فوج بھجوادی ہے، لیکن صدر روزاتن بایوف کی عبوری حکومت کی طرف سے ماسکو سے امن کار فوجیں بھیجنے کی درخواست کو اب تک مسترد کیا ہے۔

کرغزستان میں امریکہ کا بھی ایک ایئر بیس ہے، جِس کی افغانستان میں کی جانے والی فوجی کاروائیوں کے لیے کلیدی اہمیت ہے۔

دونوں روس اور امریکہ نے انسانی ناطے سے امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جب کہ امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان ، پی جے کراؤلی نے مربوط بین الاقوامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

کرغزستان میں امریکی سفارت خانےنے پیر کو اعلان کیا ہے کہ امریکی حکومت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فوری طور پر آٹھ لاکھ ڈالر فراہم کررہی ہے۔ سفارت خانے کا یہ بھی کہناہے کہ طبی اور ہنگامی نوعیت کی اشیائے صرف مختص کردی گئی ہیں۔

یورپ کی سکیورٹی اور تعاون کی تنظیم نے، جِس کی سربراہی اِن دِٕنوں ہمسایہ ملک قزاقستان کر رہا ہے ، اپنا خصوصی ایلچی کرغزستان بھیجا ہے ۔ صورت حال قابو میں کرنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات پر غور کے لیے تنظیم پیر کو اپنا ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرنے والی ہے۔

XS
SM
MD
LG