رسائی کے لنکس

logo-print

اچھی ملازمت درکار ہوئی تو یونین میں شامل ہوں گا: اوباما


بقول صدر ’’وہ اٹھ کھڑے ہوئے، ریلیاں نکالیں، اور ایک ہفتے میں 40 گھنٹے کے اوقات کار، اورٹائم، کم از کم اجرت کے تعین، اور تنخواہ اور سہولیات میں بہتری کے حق کو منوانے کے لیے منظم ہوئے۔۔۔ ‘‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ’’جب کارکن اپنی اجرت کو بہتر بنانے اور ملازمت کے مقام کی حرمت کا تقاضا کرنے کے لیے آواز بلند کریں تو دراصل وہ امریکہ کی کہانی پر کاربند ہیں‘‘۔

اُنھوں نے یہ بات ملک بھر کے کارکنان کو تحریر کردہ ایک کھلے مراسلے میں کہی ہے، جسے یوم محنت کش کے موقع پر جاری کیا گیا۔

سنہ 1894میں امریکہ میں ’لیبر ڈے‘ کو باقاعدہ سرکاری تعطیل قرار دیا گیا، جو ستمبر کے پہلے پیر کو منایا جاتا ہے۔

اوباما نے کہا کہ ’’گذشتہ صدی کے آغاز پر مقام ملازمت کے ماحول میں عزت اور انصاف کی سربلندی کی جدوجہد کے لیے امریکی کارکنان اکٹھے ہوئے۔‘‘

بقول صدر ’’وہ اٹھ کھڑے ہوئے، ریلیاں نکالیں، اور ایک ہفتے میں 40 گھنٹے کے اوقات کار، اورٹائم، کم از کم اجرت کے تعین، اور تنخواہ اور سہولیات میں بہتری کے حق کو منوانے کے لیے منظم ہوئے۔۔۔ یہ مطالبات منوانے کے لیے اُنھیں سخت جانفشانی سے کام کرنا پڑا، جو بعدازاں، دنیا کے سب سے بڑے متوسط طبقے کا روپ اختیار کرنے کے حوالے سے ایک سنگِ بنیاد قرار پائی‘‘۔

صدر نے کہا کہ اگر اُنھیں ایک اچھی ملازمت کی تلاش ہوئی ’’جس سے میں اپنے اہل خانہ کے لیے سلامتی کے عنصر کو یقینی بنا سکوں، تو میں یونین میں شامل ہوں گا‘‘۔

اوباما کے الفاظ میں ’’تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس ملک میں کارکنان کے اہل خانہ کو مناسب اجرت مل پاتی ہے، لیکن صرف اُسی وقت کہ وہ اس کے لیے جہدوجہد منظم کرنے پر تیار ہوں۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اُن دِنوں میں نے اپنی زندگی کی شروعات ایک کارکن کے طور پر کی تھی‘‘۔

گذشتہ 30 برسوں کے دوران لیبر یونیوں کی رکنیت میں رفتہ رفتہ کمی آتی گئی، اور جن سہولیات کے لیے کئی عشرے قبل یونیوں نے جدوجہد کی اب یہ مراعات امریکی ملازمت کا ایک روایتی حصہ بن چکے ہیں،جس میں ایک ہفتے کے دوران پانچ دِن کام، صحت عامہ کی دیکھ بھال و انشورنس اور تعطیلات کے دوران مالکان کی جانب سے اجرت میسر آنا شامل ہے۔
اب یونین کے متعدد رُکن روایتی صنعتی اداروں میں نہیں بلکہ مقامی، ریاستی اور وفاقی حکومتوں میں اعلیٰ مقامات پر فائز ہیں، جب کہ محنت کشوں کی تحریک نے صنعتی اداروں میں جنم لیا۔

XS
SM
MD
LG