رسائی کے لنکس

'بچوں کی بڑی تعداد کی ویکسین سے محرومی غلط تصورات کا نتیجہ'


فائل فوٹو

ڈاکٹر جاوید اکرم کے بقول اگر ہزار میں سے دو بچے بھی ویکسن سے محروم رہ جائیں تو وبائیں پھوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

پاکستان میں شعبہ طب سے وابستہ افراد کا کہنا کہ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کی نصف سے زائد تعداد میں بچے بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں اور ان کے بقول اس کی وجہ ویکسین کی دستیابی نہیں بلکہ اس سے متعلق منفی تاثر ہے۔

یہ بات انہوں نے ایک ایسے وقت کہی جب دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بچوں کو مختلف یبماریوں سے بچاؤ کی ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں سے متعلق عوام میں شعور و آگہی پیدا کرنے کا ہفتہ منایا جارہا ہے

اس سلسلے میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نو زائیدہ بچوں کی شرح اموات جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ ویکسین اور حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ جانا بتایا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں قائم شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ بچوں کو بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین دینا نہایت ضروری ہے۔

"23 کے قریب ایسی بیماریاں ہیں جن کے لیے ویکسین دی جاتی ہے۔ پیدائش کے وقت پولیو کے قطرے پلاتے ہیں اس کے ساتھ خسرہ اور ممپس،خناق، کالی کھانسی اور ٹیٹنس کی ویکسین لگاتے ہیں اور ایک ماہ کے بعد ان کوان کابوسٹر دیتے ہیں اس طرح ان کو ہپیاٹائٹس بی ویکسین پیدائش کے وقت لگاتے ہیں پھر ایک مہینے بعد اور پھر دوسرے مہینے کے بعد اس طرح یہتین بار دی جاتی ہے۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسے بچوں کی تعدادلگ بھگ 52 فیصد ہے جو ان بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین سے محروم رہا جاتے ہیں۔

" ویکسین کی دستیابی کا مسئلہ نہیں ہے مسئلہ ہے اس سے کے بارے میں غلط تصورت اور والدین کے ذہنوں میں اس کے بارے میں غلط تصور کو تبدیل کرنا ضروری ہے اور بہت زیادہ اہم ہے۔"

تاہم انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے نمٹنے کے لیے موثر منصوبہ بندی اور عوام میں شعوری و آگہی پیدا کرنےکی ضرورت ہے۔

" اس کے لیے بہت موثر منصوبہ بندی کرنی ہو گی جس کا فقدان ہے اور اس( مہم ) میں ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو شامل کرنا ہو گا جس میں عالم دین بھی ہونے چاہیے، ڈاکٹر بھی ہونے چاہیے اسکول ٹیچر بھی ہونے چاہیے اور اس ساتھ مقامی سطح پر موثر لوگوں کو شامل کیا جائے۔"

ڈاکٹر جاوید اکرم نے کہا کہ ملک میں کم عمر بچوں کی شرح اموات کو اسی صورت کم کیا جا سکتا ہے اگر ہم اگلے پانچ سالوں میں کسی طرح ویکسین دینے کے کور کو بڑھا کر 100 فیصد تک لے جایا جائے ان کے بقول اگر ہزار میں سے دو بچے بھی ویکسن سے محروم رہ جائیں تو وبائیں پھوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ویکسن کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر لوگوں کو متحرک کرنے جسیے اقدام کی طرف توجہ دی رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG