رسائی کے لنکس

یہ جمہوری جہدوجہد اور احتجاج کی ابتدا ہے، جسے انتہا تک لے جانا ہے: قادری


پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ، ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں متحدہ اپوزیشن نے بدھ کی شام لاہور میں احتجاجی جلسے کا اہتمام کیا جس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے خلاف اکٹھی ہونے والی تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں نے خطاب کیا، جب کہ اِن اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان خاصی تعداد میں جلسہٴ عام میں موجود تھے۔ جلسہٴ گاہ کے مرکزی اسٹیج سے تقاریر کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔

مال روڈ پر ہونے والے اس جلسہ گاہ کے پہلے سیشن میں، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری، جب کہ دوسری نشست کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین، عمران خان نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر قادری نے کہا کہ ’’آج ہم سب سانحہٴ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں‘‘۔ بقول اُن کے ’’اس جلسہٴ عام کا مقصد کوئی ذاتی منفعت حاصل کرنا نہیں، بلکہ سوئے ہوئے شعور کو جگانا اور بے آوازوں کو آواز دینا ہے‘‘۔

شریف خاندان کو مخاطب کرتے ہوئے، اُنھوں نے کہا کہ ’’اگر امن توڑنا ہوتا تو آپ کو جاتی امرا سے باہر قدم رکھنے کی جراٴت نہ ہوتی؛ ہم آپ کے ظلم و جبر کو توڑنا چاہتے ہیں‘‘۔

بقول ڈاکٹر قادری، ’’ایسے میں جب سارا پنجاب غیر محفوظ ہے، پولیس صرف ایک خاندان کو تحفظ فراہم کرنے میں لگی ہوئی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’قوم کی بچیوں کو تحفظ کیوں نہیں دیا جاتا‘‘۔

طاہر القادری نےالزام لگایا کہ ’’ن لیگ سلطنتِ شریفیہ کا سیاسی لشکر ہے، یہ لوگ ’سسلین مافیا‘ اور ’گاڈ فادر‘ سے آگے نکل چکے ہیں۔ اِنھوں نے انسانیت پر ظلم کے پہاڑ گرائے، یہ جمہوری جہدوجہد اور احتجاج کی ابتدا ہے، جسے انتہا تک لے جانا ہے‘‘۔

آصف زرداری نے کہا ہے کہ ’’ملک کو جاتی امرا سے خطرہ ہے‘‘ اور یہ کہ ’’پیپلز پارٹی ہمیشہ پاکستان کی بات کرتی ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’سیاست ضرور کریں گے۔ لیکن، ملک کے خلاف سیاست نہیں ہوا کرتی‘‘۔

زرداری کے بقول، ’’ملک کو خطرہ کسی اور سے نہیں جاتی امرا کے شیخ مجیب الرحمٰن سے ہے۔ یہ مودی کا یار سمجھتا ہے جو ملک کے ساتھ کرنا چاہے کرے ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اس طرح کی سوچ گریٹر پنجاب بنانے کی ہے اور اُس نے کہہ دیا کہ مجھے شیخ مجیب بنایا جا رہا ہے‘‘۔

عمران خان نے تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے پر ڈاکٹر طاہر القادری کے اقدام کر سراہا۔ سانحہٴ ماڈل ٹاؤن کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ پولیس نے ’’نہتے شہریوں پر گولیاں برسائیں؛ جو بات دنیا کے کسی مہذب ملک میں نہیں ہوتی‘‘۔

اُنھوں نے پنجاب پولیس کو ’’نا اہل‘‘ قرار دیا اور کہا ’’ایسے میں جب ملک بھر میں جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے، پنجاب میں جرائم کے اعداد و شمار خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں‘‘۔

تحریک انصاف کے چیرمین نے کہا کہ ’’سانحہٴ ماڈل ٹاؤن کو چار سال گزر چکے ہیں؛ لیکن، ابھی تک کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا‘‘، کیونکہ، بقول اُن کے، ’’یہ خود مجرم ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ شیخ رشید کی ’’تمام باتوں سے متفق ہیں‘‘۔بقول عمران خان ’’کونسا پارلیمان ہے جو مجرم کو پارٹی سربراہ بناتا ہے‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کی پارلیمان سے استعفیٰ دینے کی تجویز ’’اچھی ہے‘‘، جس سلسلے میں وہ اپنی جماعت سے بات کریں گے۔

تحریک انصاف کے راہنما نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف وہ شخص ہے ’’جس نے 300 ارب روپے چوری کی، پیسا ملک سے باہر لے گیا اور پھر بھی پارٹی کا سربراہ ہے‘‘۔ بقول اُن کے، ’’ایسا پارلیمان جو ایک مجرم کو پارٹی سربراہ بنائے، میں اُس پر لعنت بھیجتا ہوں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG