رسائی کے لنکس

logo-print

جگمگاتی روشنیوں نے شاہی قلعے کا ماضی زندہ کر دیا


لاہور کے شاہی قلعے میں مغلیہ دور کی ایک جھلک

اب سیاح مصنوعی روشنیوں میں روشنائی دروازہ، حضوری باغ، عالمگیری دروازی، شیش محل، لاهور قلعے کی تصویری دیوار اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی دیکھ سکتے ہیں۔

والڈ سٹی اتھارٹی نے لاہور کے قدیم شاہی قلعے کو رات کے وقت بھی سیاحوں کے لیے کھول دیا ہے۔ اب سیاح مصنوعی روشنیوں میں روشنائی دروازہ، حضوری باغ، عالمگیری دروازی، شیش محل، لاهور قلعے کی تصویری دیوار اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی دیکھ سکتے ہیں۔

روشنیوں اور صوت کے خوبصورت امتزاج نے سینڑوں سال پہلے کے ماضی کو زندہ کر دیا ہے اور اس دور کے کردار، قلعے کے اندر کی زندگی سانسیں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ آئیے کچھ تصویری جھلکیاں دیکھتے ہیں۔

شاہی قلعے کے حضوری باغ میں بانسری نواز خوبصورت دھنیں بجا کر سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔

سیاحوں کا ایک گروپ لاهور قلعے کی تصویری دیوار کو دیکھنے کے لیے خوبصورت رنگوں سے منقش رکشوں میں سیر کر رہے ہیں۔

حضوری باغ میں سنگ مرمر کے خوبصورت منقش چبوترے پر ایک فنکار ستار بجا رہا ہے۔

شاہی قلعہ لاهور کے عالمگیری دروازہ مصنوعی روشنیوں سے جگمگا رہا ہے۔

برقی قمقموں نے تاریخی شیش محل کی خوبصورتی کو دو چند کر دیا ہے۔

ایک ستار نواز موسقی کی خوبصورت دھنیں بکھیر رہا ہے اور دو باوردی چوب دار مودب کھڑے ہیں۔

مغیلہ دور کے لباس میں ملبوس ایک فنکار شاہی آداب کے ساتھ ستار بجا رہا ہے۔

سیاحوں کا ایک گروپ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی دیکھ رہا ہے۔

سیاحوں کا ایک گروپ حضوری باغ میں موسیقی اور مصنوعی روشنیوں میں جگمگاتی تاریخی عمارتوں سے لطف اٹھا رہا رہے۔

شاہی قلعے میں مغل بادشاہ اور ملکہ کی روزمرہ شاہی زندگی کا ایک عکس۔ دو مودب ملازم مورجھل سے بادشاہ اور ملکہ کو ہوا دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG