رسائی کے لنکس

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پنجاب کي پانچ کروڑ آبادي خواتين پر مشتمل ہے جبکہ خواتين ججز صرف 227 ہيں۔ ہماری کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ اس تعداد کو بڑھا کر 50 فیصد کریں'۔

کنور رحمان خان

لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے خواتین ججز سے کہا ہے کہ وہ اپنے اندر سے صنفی امتیاز ختم کریں اور اپنے الگ چیمبر میں بیٹھ کر چائے پینے کی بجائے مرد ججز کے ساتھ مل کر رہیں۔

لاہور ہائي کورٹ میں خواتين ججز میں گاڑياں تقسیم کرنے کے لیے منعقد کی جانے والی تقریب میں چيف جسٹس منصور علي شاہ نے سول اور ایڈیشنل سیشن ججز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی عدلیہ کا پاکستان کے بارے میں اچھا تاثر نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی امریکہ، یورپ، یا دیگر ملکوں سے جج صاحبان یہاں آتے ہیں تو وہ اپنے فیڈ بیک میں بتاتے ہیں کہ پاکستان کی خواتین ججز خود کو الگ تھلگ رکھتی ہیں۔

چیف جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب بھي کوئي سول جج کا امتحان دے کر کامياب ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی حیثیت خاتون يا مرد کی نہيں رہتی بلکہ پھر وہ صرف ایک جج ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ٹرانسفراور پوسٹنگ کرتے وقت وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ مرد ہے یا خاتون ، بلکہ صرف يہ ديکھتے ہيں کہ وہ جج ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی خاتون کو مرد تنگ کرے تو وہ مجھے بتائیں۔ جو خواتین ججز مردوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں شرماتی ہیں انہیں چاہیے کہ وہ واپس اپنے گھروں کو چلی جائیں'۔

چيف جسٹس نے کہا کہ پاکستان کی خواتين ججز اتني مضبوط ہيں کہ وہ عدليہ کو ليڈ کر سکتي ہيں۔ ان کا کہنا تھاکہ عدلیہ کی کوشش ہے کہ خواتین ججز کی تعداد مرد ججز صاحبان کے برابر کی جائے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کي پانچ کروڑ آبادي خواتين پر مشتمل ہے جبکہ خواتين ججز صرف 227 ہيں۔ ہماری کوشش ہے کہ آہستہ آہستہ اس تعداد کو بڑھا کر 50 فیصد کریں'۔

چیف جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی ہر کمیٹی میں خاتون جج صاحبان شامل ہوتی ہیں۔ جوڈیشل اکیڈمی کی انچارج بھی خاتون جج ہیں۔اگر خواتین ججز اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کرینگی اور مرد جج صاحبان کے ساتھ مل کر کام کرینگی تو ان کی شخصیت میں اضافہ ہو گا اور فیصلہ کرنے میں بھِی زیادہ اعتماد آئے گا۔

'اگر وہ ایسا کریں گی تو عدلیہ کی ساکھ بہتر اور ادارے کی کارکردگی میں اضافہ ہو گا'۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG