رسائی کے لنکس

جامن توڑنے والے نے بتایا کہ، ’’یہاں کام کرنے والا ہر مزدور ایک دن میں تقریباً ایک من جامن توڑ لیتا ہے اور جتنا پھل بکتا ہے، ہم ٹھیکیدار سے اُسی کا آدھا حصہ لے لیتے ہیں۔ جو کبھی پانچ سو روپے تو کبھی آٹھ سو روپے بن جاتے ہیں‘‘

کاشف علی لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں ویٹر کا کام کرتا ہے۔ لیکن، اِن دنوں اُس نے لاہور کے مین بولیوارڈ گلبرگ میں جام شیریں پارک کے باہر جامن کا ٹھیلہ لگا رکھا ہے۔

’وائس آف امریکہ اُردو‘ سے بات کرتے ہوئے کاشف نے بتایا کہ گزشتہ چھ سالوں سے وہ مئی کے مہینے میں اس باغ کا ٹھیکہ لے لیتا ہے، پھر جب بارشیں ہوتی ہیں اور پھل پک کر تیار ہوتا ہے تو وہ ایسے افراد کو مزدوری پر بلا لیتا ہے جو درختوں پر چڑھ کر پھل توڑ کر لاتے ہیں اور اُس کے حوالے کر دیتے ہیں۔ وہاں وہ سڑک کنارے بیٹھ کر سو سے ڈیرھ سو روپے فی کلو جامن فروخت کرتا ہے۔

کاشف علی، جامن فروش
کاشف علی، جامن فروش

کاشف نے بتایا کہ ’اس پارک کے علاوہ باغ جناح، پنجاب یونیورسٹی، ایچی سن کالج، وفاقی کالونی اور چند دیگر جگہوں پر بھی جامن خاصی تعداد میں لگتا ہے۔ پی ایچ اے ہر سال جب یہ رقبہ نیلام کرتا ہے تو کوئی ایک شخص چھ سے سات لاکھ روپے ان جگہوں کے عوض ادا کرتا ہے اور درختوں کی تعداد کی مناسبت سے اسے مُختلف افراد میں تقسیم کر دیتا ہے، جیسے کہ میں نے اس پارک میں لگے درختوں سے جامن توڑنے کے لئے اسی ہزار روپے ادا کئے ہیں‘۔

اسی باغ کے دروازے پر بانس کی ایک ساٹھ فُٹ لمبی اور پانچ فُٹ چوڑی سیڑھی بھی درخت کے ساتھ لگی کھڑی ہے۔ باغ کے اندر نظر دوڑائیں تو تقریباً ہر دسویں درخت کے ساتھ ایک سیڑھی لگی ہے، جس پر چڑھ کر مزدور پھل توڑ رہے ہیں۔ یہاں جامن توڑتے عبدالغفار نے بتایا کہ وہ چھانگا مانگا سے آئے ہیں ۔ جہاں وہ سال کے گیارہ مہینے سیری کلچر کے رقبے پر لگے شہتوت کے درختوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ آدھا سال ریشم کے کیڑے پالتے ہیں اور پھر جب ان درختوں کی لکڑی کی نیلامی ہوتی ہے تو اُسے خرید کر ٹوکریاں بنا کر بیچتے ہیں۔ لیکن، ساون کا مہینہ وہ ہمیشہ لاہور آکر گزارتے ہیں۔

عبدالغفار نے کہا کہ ’’یہاں آنے کا ایک مقصد تو روزگار کمانا ہوتا ہے۔ لیکن، ساتھ ہی تفریح کا خیال بھی رہتا ہے۔ سارا سال جنگل میں رہ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ لاہور آتے ہیں تو کُچھ اچھے لوگ مل جاتے ہیں، دیہاڑی بھی اچھی لگ جاتی ہے اور وقت بھی خوشی خوشی گزر جاتا ہے‘‘۔

جامن توڑنے والے نے بتایا کہ، ’’یہاں کام کرنے والا ہر مزدور ایک دن میں تقریباً ایک من جامن توڑ لیتا ہے اور جتنا پھل بکتا ہے، ہم ٹھیکیدار سے اُسی کا آدھا حصہ لے لیتے ہیں۔ جو کبھی پانچ سو روپے تو کبھی آٹھ سو روپے بن جاتے ہیں‘‘۔

’جام شیریں پارک‘ میں عبدالغفار کے ساتھ کام کرتے دیگر چودہ مزدور بھی لاہور سے تقریباً 80 کلومیٹر دور واقع گاؤں چھانگا مانگا سے آئے ہیں۔ اس بار اُنہیں اُمید ہے کہ وہ زیادہ منافع کما کر لے جائیں گے، کیونکہ اس سال بارشیں زیادہ ہونے کی وجہ سے فصل اچھی تیار ہوئی ہے۔

یہیں کام کرنے والے ایک مزدور طیب نے بتایا کہ چھ سال کے بعد یہاں اتنا اچھا پھل لگا ہے کہ ہمیں اُمید ہے کہ روزگار اچھا ملے گا۔ پچھلے سالوں میں دھوپ زیادہ لگنے کی وجہ سے درخت کی ڈنڈی کمزور ہوجاتی تھی اور پھل پکنے سے پہلے ہی گر کر ضائع ہو جاتا تھا۔ لیکن، اس بار بارشیں وقت پر ہوئی ہیں۔ جس سے زیادہ جامن ضائع نہیں ہوا۔ اس کے باوجود جو جامن زمین پر گر جاتا ہے وہ اللہ کی طرف سے مستحق لوگوں اور باقی مخلوق کے لئے ہوتا ہے اور ہم نے اپنے تمام ساتھیوں کو کہہ دیا ہے کہ جو لوگ جامن اکٹھا کرنے آئیں، اُنہیں روکنا نہیں۔‘‘

جامن کے باغات میں عام شہری بھی اپنے حصے کا موسمی پھل اُٹھانے آجاتے ہیں۔ 13 سالہ احمد اپنے چھوٹے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ زمین پر بکھرے جامن اکٹھا کرنے آیا ہے۔ احمد نے بتایا کہ ’’یہ پارک اُن کے گھر کے پاس ہے، ہم دوست انہیں جمع کرکے خود بھی کھاتے ہیں اور گھر والوں کے لئے بھی مُفت میں لے جاتے ہیں اور باہر سے مہنگے داموں نہیں خریدنے پڑتے‘‘۔

جامن برصغیر کا ایک سدا بہار درخت ہے، جس کی لمبائی ساٹھ سے ستر فُٹ ہو سکتی ہے۔ اس شجر کی خصوصیت یہ ہے کہ اگرایک دفعہ جڑ پکڑ لے تو اسے بار بار پانی دینے کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ خُشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ماہر اشجار قمر مہدی کہتے ہیں کہ ’’ایک دور تھا جب شہر میں مُختلف پھلوں خصوصاً جامن کے درخت لگائے جاتے تھے، مال روڈ، جیل روڈ، کینال روڈ، سرفراز رفیقی روڈ پر جامن کی بہتات تھی۔ فائدہ مند درخت تو ہے، لیکن چونکہ یہ فیشن ایبل نہیں، اس لئے اب شہروں میں حکومتی سطح پر شجر کاری کرنے والے افراد اس درخت کو اہمیت نہیں دیتے اور ایسے درخت لگاتے ہیں جن کا نام کسی نے کبھی نہ سُنا ہو اور جو مہنگا ہو کیونکہ اس میں اُنہیں منافع ہے۔‘‘

لیکن، قمر مہدی نے مزید کہا کہ، ’’وہ درخت ہمارے مُقامی نہیں، اس لئے اُنکی زندگی کم ہوتی ہے۔ اُن کے مقابلے میں اگر جامن جیسی مُقامی شجرکاری کی جائے تو ان درختوں پر لگے چھوٹے چھوٹے پھولوں پر پرندے بھی واپس آئیں گے‘‘۔

جامنی رنگ کے جموں جہاں بھی لگے ہیں، وہاں لوگوں کو تفریح، روزگار، صحت اور ذائقہ سب ایک ساتھ دے رہے ہیں اور گھنے درختوں کا سایہ اور ان پر لگے پھل کی خوشبو دور دور سے لوگوں کو مدعو کر رہی ہے کہ ساون کے مہینے میں جامن کی برسات سے فائدہ اُٹھانے پُہنچ جاؤ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG