رسائی کے لنکس

logo-print

لاس ویگاس میں الیکٹرانک مصنوعات کی سالانہ نمائش


تھری ڈی ٹیلی ویژن اس نمائش کا سب سے اہم پہلو ہے

اس بارلاس ویگاس میں ہونے والی الیکڑانک مصنوعات کی سالانہ نمائش میں تھری ڈی ٹیلی وثرن خاص طور پر اہمیت دی جارہی ہے۔ اس نمائش میں ہائی ٹیک اور روزمرہ استعمال کی چیزیں بنانے والی کمپنیوں نے اپنی نئی مصنوعات صارفین کے لیے پیش کی ہیں۔ الیکٹرانک کی سالانہ نمائش کے چند خاص پہلو یہ ہیں:


امریکی موٹر ساز کمپنی فورڈ اپنے2012 ء کے کئی ماڈلز میں نیٹ ورکنگ کو متعارف کروا رہی ہے جن میں Twitter،گوگل اور اے اوایل کے ذریعے نقشوں اور دوسری اطلاعات کی فراہمی اور ایپل کی معروف آئی ٹیونز تک براہ راست رسائی شامل ہے۔


فورڈ کمپنی اپنے نئے ماڈلز کی گاڑیوں کے ڈیش بورڈوں کے سلسلے میں مائیکروسافٹ سے شراکت کررہی ہے۔ مائیکروسافٹ کے ایک عہدے دار والٹر سلیوین کا کہناہے کہ ان کی کمپنی فورڈ اور فیٹ کے کئی ماڈلز میں انٹرٹینمٹ کے نظام کو وائرلس سے منسلک کرچکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان ماڈلز میں بلوٹوتھ فون کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے میڈیا پلیئرز کو ان کاروں میں استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان الیکٹرانک آلات کو آپ اپنے زبانی احکامات کے ذریعے کنٹرول کرسکتے ہیں۔ انہوں نے نمائش میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔


لاس ویگاس کی الیکٹرانک مصنوعات کی سالانہ نمائش میں 25 سو سے زیادہ کمپنیوں نے اپنی مصنوعات صارفین کے لیے پیش کی ہیں۔ نمائش کی ترجمان ٹیرا ڈونین کا کہنا ہے کہ اس سال نمائش میں گھریلو استعمال کے لیے بڑے بڑے سائزوں کے انٹرٹینمنٹ سسٹم متعارف کرائے گئے ہیں۔ کچھ سسٹمز میں بڑے سائز کے ٹیلی ویژن شامل ہیں اور کچھ سسٹمز اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ ان کے ساتھ ایسی عینکیں ہیں جنہیں پہننے سے آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے سامنے ایک بہت بڑی سکرین موجود ہے اور آپ اس پر ہائی ڈیفی نیشن میں منظر دیکھ رہے ہیں۔


ترجمان کا کہنا تھا کہ اس نمائش کا سب سے اہم پہلو تھری ڈی ٹیلی ویژن ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اگرچہ پچھلے سال بھی چند تھری ڈی ٹیلی ویژن نمائش میں رکھے گئے تھے لیکن اس سال زیادہ تر کمپنیاں اپنے تھری ڈی ٹیلی ویژن نمائش میں لائی ہیں اور اس رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سال 2010ء تھری ڈی ٹیلی ویژن کے لحاظ سے ایک اہم سال ہے اور اب لوگ اپنی پسند کی تھری ڈی فلمیں تھیٹروں کی بجائے اپنے گھروں میں دیکھ سکیں گے۔


پیناسونک کمپنی نے ناظرین کو اپنے ٹیلی ویژن پر تھری ڈی نشریات دکھانے کے لیے سیٹلائٹ ٹی وی کمپنی ڈائرکٹ ٹی وی کے ساتھ اشراک کرلیا ہے۔ پیناسونک نے نمائش میں دنیا کا سب سے بڑا تھری ڈی پلازما ٹیلی ویژن بھی پیش کیا ہےجو چار میٹر کا ہے۔


پیناسونک کمپنی کی ایک عہدے دار ایملی بیرٹا کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی نے انٹرنیٹ کے ذریعے ٹیلی کانفرنسنگ کرنے والی کمپنی سکائی پے کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ چنانچہ اب صارفین اپنے گھر میں بڑی ہائی ڈیفی نیشن سکرین پر ٹیلی کانفرنسنگ کرسکیں گے۔


نمائش میں کئی چینی کمپنیوں نے الیکٹرانک کتابیں پڑھنے کے لیے اپنی مصنوعات رکھی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے نئے ڈیجیٹل ریڈرز مارکیٹ میں آنے کا بعد ایمزان کے تیار کردہ آلے کِنڈل اور سونی کے ای ریڈر کو مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔


کئی دوسری کمپنیوں نے الیکٹرانک ریڈرز کے لیے اپنی مصنوعات بھی نمائش میں رکھی ہیں جن میں ان کے لیے چھوٹے لیمپ، ان کے خوبصورت گرد پوش اور انہیں پانی سے بچانے کی چیزیں شامل ہیں، جن کی مدد سے آپ اپنی الیکٹرانک بک پانی کے ٹب میں بھی بیٹھ کرپڑھ سکتے ہیں۔


الیکٹرانک مصنوعات کی اس نمائش میں وہ آلات بھی لوگوں کی توجہ کا مرکزبنے رہے جن کی مدد سے سمارٹ فونز کی رینج میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹر بنانے والی کمپنی ایچ پی اور مائیکروسافٹ کے اشتراک سے تیار کیا جانے والا ایک چھوٹا کمپیوٹربھی لوگوں کی توجہ کا مرکز رہا۔ توقع ہے کہ اپیل کمپنی بھی اپنا ایک ایسا ہی کمپیوٹر اس ماہ کے دوران کیلی فورنیا میں اپنی کانفرنس میں پیش کرے گی۔


تائیوان کی ریڈیو سیٹ بنانے والی کایک کمپنی سانگین نے پرانی اور جدید ٹیکنالوجی کو ملاکر اپنا ایک نیا ریڈیو سیٹ نمائش میں رکھاہے۔ کمپنی کے ایک عہدے دار ریکو برگوس کا کہنا ہے کہ اس نئے ریڈیو پر آپ شارٹ ویوز کی نشریات کے ساتھ ساتھ ایچ ڈی اور انٹرنیٹ ریڈیو کی نشریات بھی سن سکتے ہیں اور اس ریڈیو کے ذریعے آپ دنیا بھر میں موجود 16ہزار سے زیادہ انٹرنیٹ ریڈیو اسٹیشنوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔


لاس ویگاس کی الیکٹرانک مصنوعات کی نمائش میں رکھے گئے انٹرنیٹ ٹیلی ویژن کے بارے میں امریکہ کے وفاقی کمیونیکشن کمشن کے چیئرمین جولیئس جنیکووسکی کا کہنا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی سے ایک اہم مسئلے کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ میں ہر چار میں سے ایک گھر ایسا ہے جہاں کمپیوٹر موجود نہیں ہے جبکہ تقریباً ہر امریکی گھر میں ٹیلی ویژن موجو دہے۔ نئی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کے اس خلا کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم، صحت، سماجی سہولیات اور سکیورٹی کے نقطہ نظر سے آج کے دور میں انٹرنیٹ بہت زیادہ اہمیت حاصل کرچکا ہے۔

XS
SM
MD
LG