رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس خطرناک ہے لیکن گزشتہ صدی کی وباؤں سے زیادہ نہیں


(فائل فوٹو)

چین کے شہر ووہان کی ایک مارکیٹ سے جنم لینے والا 'ناول کرونا وائرس' دنیا کے دو درجن سے زائد ملکوں میں پھیل چکا ہے اور اس بیماری سے اب تک سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ بیماری اتنی ہلاکت خیز ثابت نہیں ہوئی ہے جتنی اس سے قبل 20 ویں صدی میں پھیلنے والی وبائیں ثابت ہوتی رہی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بدھ تک کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 490 ہو گئی ہے۔

کرونا وائرس کی وبا پھیلنے سے قبل بھی رواں صدی میں کئی دیگر مہلک وبائیں مختلف ممالک میں پھیلی ہیں۔ لیکن 20 ویں صدی میں پھیلنے والی وبائیں 21 ویں صدی کے مقابلے میں کہیں زیادہ خطرناک، مہلک اور جان لیوا تھیں۔

ایبولا (2013 سے 2016)

دسمبر 2013 میں مغربی افریقہ میں ایبولا نامی وبا پھیلی جو ایک خطرناک بخار کی صورت میں تھی۔ یہ بیماری کئی افریقی ملکوں میں تقریباً دو برس تک اپنا اثر دکھاتی رہی اور اس دوران 11 ہزار 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

ایبولا پہلی بار 1976 میں پھیلا تھا لیکن اس وقت اس نے وبائی شکل اختیار نہیں کی تھی۔ ایبولا میں ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہونے کی صلاحیت کم تھی لیکن اس بیماری سے ہلاک ہونے والوں کی شرح 40 فی صد تھی۔

ایبولا وائرس 2018 میں دوبارہ کانگو میں پھیلا جہاں اس سے 2200 سے زائد ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

سوائن فلو (2009 سے 2010)

مارچ 2009 میں میکسیکو اور امریکہ میں سوائن فلو نامی ایک مہلک وبا پھیلی تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وبا سے 18 ہزار 500 کے لگ بھگ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

البتہ سوائن فلو اتنا خطرناک ثابت نہیں ہوا جتنی اس سے متعلق قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔

سارس (2002 سے 2003)

سارس نامی سانس کے مرض کی یہ مہلک وبا چین کے صوبے گوانگ ڈونگ میں نومبر 2002 میں پھیلی تھی۔ اس بیماری سے 774 افراد ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر ہلاکتیں چین اور ہانگ کانگ میں ہوئیں۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

سارس کی وبا بھی تقریباً 30 ملکوں میں پھیلی تھی اور اس سے متاثرہ افراد میں ہلاکتوں کی شرح 9.5 فی صد تک رہی تھی۔

برڈ فلو (2003 سے 2004)

سال 2003 میں مرغیوں سے پھیلنے والی اس وبا سے 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ زیادہ تر ہلاکتیں جنوبی ایشیا میں ہوئی تھیں۔ یہ بیماری ہانگ کانگ میں پولٹری فارمز سے پھیلی۔ عالمی ادارہ صحت نے اس بیماری کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ہیلتھ ایمرجنسی بھی نافذ کی تھی لیکن اس سے ہونے والی ہلاکتیں محدود رہیں۔

اکیسویں صدی کے مقابلے میں 20 ویں صدی کی مہلک وبائیں زیادہ خطرناک ثابت ہوئیں اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد موجودہ صدی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

ایڈز (1981 سے تاحال)

سال 1981 میں پہلی بار پھیلنے والی مہلک بیماری ایڈز سے اب تک چھٹکارا حاصل نہیں ہو سکا ہے اور یہ اب بھی کئی ملکوں میں پھیل رہی ہے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

اقوامِ متحدہ کے انسدادِ ایڈز سے متعلق پروگرام کے مطابق اس بیماری سے اب تک تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہانگ کانگ فلو (1968 سے 1970)

امریکہ میں بیماریوں کی روک تھام سے متعلق ادارے کے مطابق اس بیماری سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد لگ بھگ 10 لاکھ تھی۔ 1968 میں پھیلنے والی اس بیماری سے ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر تعداد بچوں کی تھی۔

یہ وبا ہانگ کانگ سے شروع ہوئی تھی اور ایشیا سے ہوتی ہوئی امریکہ تک جا پہنچی تھی۔ سال 1969 میں یہ وبا یورپ میں بھی پھیل گئی تھی۔

ایشین فلو (1957 سے 1958)

فروری 1957 میں چین سے پھیلنے والی اس بیماری سے لگ بھگ 11 لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسپینش فلو (1918 سے 1919)

پہلی جنگ عظیم کے دوران پھیلنے والی اس بیماری سے لگ بھگ پانچ کروڑ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ستمبر 1918 سے اپریل 1919 کے دوران پھیلنے والے اسپینش فلو کو کم وقت میں زیادہ ہلاکتوں کی وجہ سے مہلک ترین بیماری بھی قرار دیا جاتا ہے۔

اسپینش فلو کی وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد جنگ عظیم اول میں ہلاک ہونے والے کل افراد کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تھی۔

یہ وبا پہلے امریکہ میں پھیلی تھی اور پھر یورپ سے ہوتی ہوئی دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گئی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG