رسائی کے لنکس

شام کے شہر حمص میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہاں سے تمام باغیوں اور ان کے اہل خانہ کا انخلا مکمل ہو گیا ہے۔ یہ شہر چار سال تک صدر بشار الاسد کی مخالف فورسز کا نام نہاد دارالحکومت رہا ہے۔

حمص کے گورنر طلال بارزئی نے صحافیوں کو بتایا کہ شہر سے آخری بس اتوار کی شام روانہ ہوئی اور ان کے بقول تمام مسلح جنگجو یہاں سے اپنے اسلحہ سمیت جا چکے ہیں۔

بارزی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی 'صنا' کو بتایا کہ سرکاری سکیورٹی فورسز کو ضلع میں تعینات کر دیا ہے اور انجینیئرز یہاں نصب بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے میں مصروف ہیں۔

باغیوں کا یہ انخلا روس کی مدد سے ہونے والے ایک معاہدے کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا جس کے تحت باغیوں کو ترک سرحد کے قریب ان کے علاقوں تک محفوظ راستہ دینے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

رواں ماہ ہی تقریباً 1500 باغی اور ان کے اہل خانہ دمشق کے مضافات سے نکل گئے تھے جب کہ سیکڑوں باغیوں کے زیر قبضہ صوبے ادلب سے محفوظ علاقے کی طرف روانہ ہوئے تھے۔

شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم 'سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق علاقے چھوڑنے والوں کی تعداد 20 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

بارزئی نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ایک ہزار سے زائد باغیوں نے اپنے ہتھیار ڈالتے ہوئے ان ہی علاقوں میں رہنے کو ترجیح دی ہے۔ معاہدے کے تحت ان کے لیے عام معافی ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG