رسائی کے لنکس

logo-print

’داعش‘ کے آن لائن پروپیگنڈا کا توڑ، ’صواب سینٹر‘ کا قیام


محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ’صواب سینٹر‘ کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ وہ آن لائن مباحثے کو تیز کرتے ہوئے خطے کی معتدل اور رواداری برتنے والی آوازوں کو عام کرے گا؛ جب کہ سب کی شراکت داری کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے، تعمیری طرز عمل کو پروان چڑھائے گا

امریکہ اور متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز ’صواب سینٹر‘ کے نام سے داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی حمایت میں پہلے کثیرملکی ’آن لائن میسیجنگ‘ اور رابطے کے پروگرام کا آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں، امریکی معاون وزیر برائے عوامی سفارت کاری اور عام امور، رچرڈ اسٹیگل اور متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت انور غرغاش موجود تھے، جس کا مقصد خطے اور دنیا بھر کے لاکھوں افراد سے یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرنا ہے، جو دولت اسلامیہ کے شدت پسند دھڑے کے خلاف صف آرا ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صواب سینٹر‘ کا کام دہشت گرد پروپیگنڈا کا ’فوری اور موئثر انسداد کرنا ہے‘۔

دولت اسلامیہ کا شدت پسند گروہ انٹرنیٹ پر یہ پروپیگنڈا غیر ملکی لڑاکوں کو بھرتی کرنے، ناجائز سرگرمیوں کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے اور مقامی آبادی پر دبائو ڈالنے اور ڈر خوف کے حربے کے طور پر استعمال کرتا ہے؛ ’جس پر نظر رکھنا اور اس کا موئثر جواب دینا اس سینٹر کا کام ہوگا‘۔

ترجمان نے بتایا کہ ’صواب سینٹر‘ کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ وہ آن لائن مباحثے کو تیز کرتے ہوئے خطے کی معتدل اور رواداری برتنے والی آوازوں کو عام کرے گا؛ جب کہ سب کی شراکت داری کے جذبے کو فروغ دیتے ہوئے، تعمیری طرز عمل کو پروان چڑھائے گا۔

’صواب سینٹر‘ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کی سرپرستی میں کام کرے گا؛ جب کہ اس ضمن میں 63 ملکوں کے اتحاد کے خواہشمند دیگر ساجھے داروں کا خیرمقدم کیا جائے گا؛ اور دنیا بھر کے ایسے لوگ، تنظیمیں یا کاروباری مراکز جو داعش کے نفرت اور عدم برداشت کے منفی نظریات کو چیلنج کرنے کا عزم رکھتے ہوں، اُنھیں دولت اسلامیہ کے انٹرنیٹ پر پروپیگنڈا کے انسداد کے کام میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

یہ مرکز ایسے افراد سے رابطہ رکھے گا اور ایسے نیٹ ورک کو وسعت دے گا جو اس دہشت گرد ٹولے کے پروپیگنڈا، عسکریت پسندوں کی بھرتی یا رقوم اکٹھی کرنے کی کوششوں کے خلاف کمر بستہ ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG