رسائی کے لنکس

'پولیٹیکل باسز کو بتا دیں ایسا نہیں چلے گا'


چیف جسٹس سپریم کورٹ ایک تقریب میں تقریر کے دوران، فائل فوٹو

کنوررحمان خاں

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے پنجاب اسمبلی میں قومی احتساب بیورو کے خلاف قرارداد پاس کیے جانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'پنجاب اسمبلی نے کس حیثیت میں نیب کے خلاف قرارداد پاس کی ہے'۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں قائم سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کیس کی سماعت کرتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے سے اسکیم کی تفصیلات پوچھیں۔

ڈی جی ایل ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ 2013 میں انہوں نے ڈی ایچ اے ماڈل دیکھا اور اسے اپنایا اور اس وقت ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ تھے۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ احد چیمہ کون ہیں اور کہاں ہیں؟ جس پر چیف سیکرٹری نے جواب دیا کہ وہ نیب کی تحویل میں ہیں۔

عدالت نے پوچھا کہ کی کیا تنخواہ ہے اور یہ کتنا لیتے تھے؟ چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ تنخواہ ایک لاکھ تک ہو سکتی ہےلیکن یہ سارے پراجیکٹ ملا کر 14 لاکھ سے اوپر لے رہے تھے۔ جس پر عدالت نے سے چیف سیکرٹری سے احد چیمہ کا مکمل سروس ریکارڈ طلب کر کیا اور ہدایات دیں کہ کوئی سرکاری افسر اس مسئلے پر ہڑتال نہیں کرےگا۔ جس افسر کو استعفٰی دینا ہے وہ دے دے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کسی بھی افسر کو بلائے گا اسے تعاون کرنا پڑے گا اور نیب کو بھی حق نہیں کہ وہ کسی کو ہراساں کرے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے احد چیمہ کے حق میں پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور ہونے پر اپنے ریمارکس میں کہا کہ کل کو سپریم کورٹ کے بھی خلاف قرارداد آ جائے گی۔ جا کر اپنے پولیٹیکل باسز کو بتا دیں ایسا نہیں چلے گا۔

نیب نے 21 فروری کو کارروائی کرتے ہوئے لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کو آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی کی 32 کنال اراضی غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG