رسائی کے لنکس

logo-print

لائبیریا: ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدام پر لوگ پریشان


لائبیریا کے وزیر دفاع سموکئی نے وائس آف امریکہ سے ایک گفتگو میں کہا تھا کہ حکومت لوگوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی۔

لائبیریا کی صدر ایلن جانسن سرلیف نے ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دارالحکومت کے ایک گنجان آباد علاقے ویسٹ پوانٹ کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ یہاں کی آبادی کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھا جائے۔

لائبیریا کے ویسٹ پوانٹ کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایبولاوائرس سے متعلق پابندیاں ناقابل برداشت ہوتی جارہی ہیں اور اگر یہی صورت حال ایک اور ہفتے تک جاری رہی تو پہلے ہی سے ناراض رہائشی مزید غصے میں آ سکتے ہیں۔

عالمی ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ کے چار ممالک میں تقریباً 2500 افراد ایبولا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں سے 1350 کی موت واقع ہو چکی ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ایبولا سے ہونے والی اموات میں سے 90 فیصد لائبیریا میں ہوئیں۔

مچھلی کے کاروبار سے وابستہ ایک رہائشی جاتو حارث کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں سے مقامی آبادی کے کاروباری معمولات متاثر ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول حکومت نے نیا حکم نامہ نافذ کرنے کے بعد پہلی بار چاولوں کا ایک ٹرک تقسیم کیا تھا لیکن یہ پوری آبادی کے لیے ناکافی ہے۔

ویسٹ پوائنٹ کی ایک مقامی غیر سرکاری تنظیم کے ایک عہدیدار آرچی پونپون نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ حکم نامہ لوگوں کے آزادانہ نقل و حرکت کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہے۔

پونپون کا مزید کہنا ہے کہ یہاں دواؤں اور طبی سہولتوں کی قلت ہو گئی ہے۔

لائبیریا کے وزیر دفاع سموکئی نے اس ہفتے وائس آف امریکہ سے ایک گفتگو میں کہا تھا کہ حکومت لوگوں کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرنا چاہتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کرفیو اور لوگوں کو علیحدہ رکھنے کا مقصد لوگوں کے آپس میں روابط کو کم کرنا ہے تاکہ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے سلسلے کو روکا جا سکے۔

XS
SM
MD
LG