رسائی کے لنکس

logo-print

جون تک ایبولا وائرس کا خاتمہ ہو سکتا ہے: ایک مطالعاتی جائزہ


یونیورسٹی آف جارجیا کے اوڈم اسکول آف ایکالوجی کے پروفیسر اور اس رپورٹ کے سرکردہ مصنف جان ڈریک نے کہا ہے کہ مطالعے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اب تک اس وبا کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کتنے موثر رہے ہیں۔

ایک نئے مطالعاتی جائزے کے مطابق اگر لائیبیریا میں اسپتالوں میں بہتر سہولتیں اور حفاظتی اقدامات جاری رہتے ہیں تو جون تک ایبولا وائرس کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

'پی ایل او ایس بیالوجی' نامی جریدے میں شائع ہونے والے مطالعاتی جائزے میں انفیکشن کے مقام اور علاج، اسپتالوں کی سہولتوں کا فروغ اور مردوں کو دفن کرنے کے محفوظ طریقوں جیسے معاملات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف جارجیا کے اوڈم اسکول آف ایکالوجی کے پروفیسر اور اس رپورٹ کے سرکردہ مصنف جان ڈریک نے کہا ہے کہ مطالعے میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اب تک اس وبا کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کتنے موثر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے ایک کمپیوٹر ماڈل بنایا ہے اور ہمارا ابتدائی مقصد یہ تھا کہ ہم اس چیز کا جائزہ لیں کہ اس (ایبولا) کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کس سطح کی مداخلت ضروری ہو گی۔ اور بالآخر ہم نے یہ بتانے کے لیے کہ اس وبا کا مستقبل کیا ہو گا ہم نے اس ماڈل کو استعمال کیا"۔

ڈریک نے کہا کہ ان کی ٹیم نے (مطالعاتی جائزے کے لیے ) عالمی ادراہ صحت اور لائیبیریا کی وزارت صحت کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات کو استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بہتر امکانات ہیں کہ ایبولا کو اس سال کے وسط تک ختم کیا جاسکتا ہے یا کم ازکم اس کو بہت کم سطح پر لایا جا سکتا ہے۔

ڈریک نے کہا کہ "اس کے لیے وزارت صحت کی طرف سے مسلسل نگرانی اور احتیاط کی ضرورت ہو گی ا ور اس کے لیے یہ بھی ضروری ہو گا کہ لائیبیریا کے عوام مسلسل رضامندی کے ساتھ اس وبا کے خلاف کیے گئے اقدامات میں شامل رہیں"۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس سے صرف لائبییریا میں تقریباً 3500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 8200 افراد اس وبا سے ہلاک ہو ئے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق مغربی افریقہ سے ہے جبکہ 21,000 افراد ایبولا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG