رسائی کے لنکس

logo-print

طرابلس پر نیٹو طیاروں کے مزید فضائی حملے


طرابلس پر نیٹو طیاروں کے مزید فضائی حملے

نیٹو کے جنگی طیاروں نے جمعہ کے روز دن کے اوقات میں لیبیا کے دارالحکومت طرابلس پر فضائی حملے کیے جس میں شہر کے کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

فوری طور پر بمباری کے اہداف واضح نہیں ہوسکے اور نہ ہی ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ تاہم فضائی حملے کے بعد شہر کی سڑکیں ایمبولینسوں کی آوازوں سے گونجتی رہیں۔

نیٹو طیاروں کی جانب سے لیبیا پر عموماً رات میں فضائی حملے کیے جاتے رہے ہیں تاہم سرکاری اور فوجی تنصیبات کے خلاف گزشتہ کچھ عرصہ سے دن میں بھی فضائی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ اس سے قبل نیٹو کی جانب سے جمعرات کی شب بھی دارالحکومت کے کئی مقامات پر بمباری کی گئی تھی۔

دریں اثناء گزشتہ تین ماہ سے جاری بحران کے حل کے لیے نیٹو کے فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

لیبیا کے حکمران معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام قذافی نے کہا ہے کہ ان کے والد ملک میں انتخابات کرانے پر تیار ہیں اور شکست کی صورت میں وہ اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ تاہم مقامی باغیوں اور امریکہ نے اس پیشکش کو مسترد کردیا ہے۔

گزشتہ روز ایک اطالوی اخبار سے گفتگو میں سیف الاسلام کا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد تین ماہ کے اندر ہوسکتا ہے جن کی شفافیت کی یقین دہانی غیر ملکی مبصرین کو مدعو کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔

تاہم حزبِ مخالف کے ایک ترجمان نے عرب ٹیلی ویژن چینل 'الجزیرہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا وقت گزر چکا ہے کیونکہ ان کے بقول "ہماری افواج طرابلس کے نواح تک پہنچ چکی ہیں"۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ترجمان نے بھی مذکورہ تجویز کو مسترد کردیا ہے۔

اس سے قبل جمعرات کے روز طرابلس میں ایک روسی سفارت کار نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ لیبیائی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی حکومت باغیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے رکھے ہوئے ہے۔

لیبیا کے وزیرِاعظم بغدادی المحمودی پہلے ہی کہہ چکے ہیں معمر قذافی عالمی دباؤ پر اقتدار سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG