رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی و شمالی وزیرستان میں محدود انتخابی سرگرمیوں کی اجازت


شمالی وزیرستان کے گاؤں علی خیل میں ہونے والے ایک انتخابی جلسے میں لوگ جمع ہیں۔

جنوبی اور شمالی وزیرستان، دونوں میں انتخابی ریلیاں نکالنے اور بڑے جلسے کرنے پر بدستور پابندی عائد ہے۔

ملک بھر میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں عروج پرہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدوار عوامی حمایت کے حصول کے لیے جلسے اور جلوس منعقد کر رہے ہیں۔ مگر بعض سابق قبائلی علاقوں بالخصوص جنوبی و شمالی وزیرستان میں یہ انتخابی سرگرمیاں انتہائی محدود ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی قصبے وانا میں گزشتہ مہینے کے اوائل میں پختون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) اور حکومت کے حامی عسکریت پسندوں کے مابین ہونے والی جھڑپ کے بعد ابھی تک دفعہ 144 کے تحت جلسہ کرنے اور جلوس نکالنے پر پابندی عائد ہے۔

اسی قسم کی صورتِ حال ملحقہ شمالی وزیرستان میں بھی ہے۔

گو کہ چند روز قبل جنوبی وزیرستان کے ضلعی انتظامی افسر نے ایک اعلامیے کے ذریعے انتخابی مہم کے سلسلے میں چار دیواری کے اندر اجلاس منعقدکرنے کی اجازت تو دی ہے مگر جنوبی اور شمالی وزیرستان، دونوں میں انتخابی ریلیاں نکالنے اور بڑے جلسے کرنے پر بدستور پابندی عائد ہے۔

دونوں اضلاع کی انتظامیہ میں شامل اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بڑے جلسے کرنے اور جلوس نکالنے کے مقامی سیاسی رہنماؤں اور آزاد امیدواروں کو پیشگی لینا ہوگی۔ البتہ انتخابی مہم کے سلسلے میں تمام امیدواروں کو چار دیواری کے اندر اجلاس کرنے اور دفاتر کھولنے کی مکمل آزادی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیے گئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے مرکزی انتظامی قصبے وانا میں مقامی قبائلیوں نے تصدیق کی ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے کئی امیدواروں نے وانا ہی کے مختلف علاقوں اور بازاروں میں انتخابی دفاتر کھول رکھے ہیں اور ان دفاتر کے ذریعے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

جنوبی و شمالی وزیرستان کے علاوہ کرم ایجنسی، فرنٹیر ریجنز اور دیگر سابق قبائلی علاقوں میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر پختون تحفظ تحریک کے سات بانی اراکین بھی امیدواروں میں شامل ہیں۔

فرنٹیر ریجنز سے قومی اسمبلی کی نشست پر امیدوار عبداللہ ننگیال نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ انہیں تو بذاتِ خود الیکشن مہم چلانے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے لیکن ملحقہ جنوبی وزیرستان میں محدود انتخابی سرگرمیوں کی اجازت ہے جس کی وجہ سے 'پی ٹی ایم' کے رہنماؤں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

'پشتون تحفظ موومنٹ' کے رہنما اور قومی اسمبلی کے امیدوار محسن داوڑ شمالی وزیرستان میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے ہیں۔
'پشتون تحفظ موومنٹ' کے رہنما اور قومی اسمبلی کے امیدوار محسن داوڑ شمالی وزیرستان میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کر رہے ہیں۔

عبداللہ ننگیال نے کسی جماعت کا نام لیے بغیر الزام لگایا کہ ایک جماعت کے کارکن زبردستی لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دھمکیوں کے ذریعے عام لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان کے ووٹ حاصل کیے جارہے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے قومی اسمبلی کی نشست پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ملک غلام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ سیاسی سرگرمیوں کے معاملے میں نرمی برت رہی ہے لیکن بعض علاقوں میں دفعہ 144 بدستور نافذ ہے۔

شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے یکم جولائی کو انتخابی ریلی سے خطاب کرناتھا۔ مگر 30 جون کو اس انتخابی ریلی کو بھی منسوخ کردیا گیا تھا۔

گو کہ ملک بھر میں عمران خان کے انتخابی ریلیوں کا شیڈول جاری کردیا گیا ہے، لیکن اس شیڈول میں کسی بھی سابق قبائلی علاقے میں 'پی ٹی آئی' کی کسی ریلی یا جلسے سے عمران خان کا خطاب شامل نہیں ہے۔

جنوبی وزیرستان میں ٹیلیفون نظام کے نہ ہونے کے باعث کسی بھی امیدوار سے براہِ راست رابطے کی وائس آف امریکہ کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔

البتہ جنوبی وزیرستان کی قومی اسمبلی کی نشست کے ایک آزاد امیدوار اور 'پختون تحفظ تحریک' کے بانی رہنما علی وزیر کے ایک معاون نے وی او اے کو بتایا ہے کہ انہیں انتخابی مہم چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

گزشتہ ماہ علاقے میں حکومت کے حامی سابق عسکریت پسندوں نے علی وزیر کے گھر اور حجرے پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا جس کے بعد علی وزیر کے حامیوں اور عسکریت پسندوں میں جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔ ان جھڑپوں میں 10 سے زائد افراد ہلاک اور 41 زخمی ہوئے تھے۔

'پی ٹی ایم' کے ایک اور بانی رہنما محسن داوڑ شمالی وزیرستان سے قومی اسمبلی کی نشست پر حصہ لے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ ضلعی انتظامیہ نے انہیں علاقہ بدر کردیا تھا مگر پشاور ہائی کورٹ نے انتظامیہ کے حکم کو معطل کرکے محسن داوڑ کو انتخابی مہم چلانے کی اجازت ے دی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG