رسائی کے لنکس

کراچی ادبی میلے میں 9 ممالک کے ادیبوں کی شرکت متوقع


امینہ سید, آصف فر خی اور اٹلی کی کونسل جنرل

کتابوں سے رشتہ ٹوٹا نہیں ،شاید ہلکا پڑ گیا ہے۔ پچھلے نو سالوں سے کراچی میں ہونے والے ’لٹریچر فیسٹیول‘ میں پورے ملک سے آئے ہوئے کتابوں اور ادب کے شوقین افراد جس لگن ، اہتمام اور جوق در جوق انداز میں اس میں شرکت کرتے ہیں وہ اسی نکتے کی دلیل ہے۔

آج آکسفورڈ یو نیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائر یکٹر ، کراچی ادبی میلے کی بانی ڈائر یکٹر اور بچوں کے ادبی میلے کی شریک بانی، امینہ سید نے وائس آف امریکہ سے ایک ملاقات میں بتایا، ’میلے میں آنے اور شرکت کرنے والوں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ 2010 میں شرکا کی تعداد 5 ہزار تھی جو 2017 میں بڑھ کر 2 لاکھ ہو گئی۔ یہ تعداد اس جانب بھی واضح اشارہ ہے کہ لوگوں میں کتاب بینی کا شوق ختم نہیں ہوا۔ ہاں حالات و واقعات سے قاری کا کتاب سے رشتہ ہلکا ضرور پڑا ہے۔ ہمیں بہت خوشی ہے کہ کراچی ادبی میلہ جس مقصد کے لئے شروع کیا گیا تھا اس میں ہم کامیاب رہے۔‘

کراچی ادبی میلے کے شریک بانی،آصف فر خی کا کہنا ہے کہ میلے میں ملک کے چاروں صوبوں اور تمام بڑے شہروں سے لوگ شرکت کر تے ہیں جبکہ بر طانیہ ، امریکہ، جرمنی، مالدیپ، فرانس ، بھارت ، سنگا پور، اٹلی اور کینیڈا سے بھی لوگ شرکت کرنے یہاں آتے ہیں۔ اس لئے اگر اسے بین الا قوامی ایونٹ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔‘‘

تین دن بعد یعنی 9 فروری سے ’نواں کراچی ادبی میلہ‘ شروع ہونے جارہا ہے جو 11 فروری تک جاری رہے گا۔ امینہ سید نے فیسٹیول کی تفصیلات کے لئے ایک پریس کانفرنس کا بھی اہتمام کیا ۔

مکالمہ، انٹر ویوز پینل کی شکل میں تبادلہ خیال ، مطالعات ، نئی کتابوں کا اجرا، انگریزی شاعری ، اردو مشاعرہ ، سندھی مشاعرہ ، اسٹینڈ اپ کامیڈی ، پرفارمنگ آرٹس ، مصوری کی نمائش، فلم اسکریننگ، اوپن مائیک، کتابوں کا میلہ اور ادبی ایوارڈز فیسٹیول کی رونق ہوں گے ۔

بچوں کے ساتھ بدفعلی جیسا حساس سمجھا جانے والا موضوع بھی فیسٹیول میں زیر بحث آئے گا جبکہ کرکٹ ،سوانح عمری اور پاپ کلچر جیسے تصورات پر بھی گفتگو ہو گی۔

اس سال فیسٹیول میں 200 پاکستانی اور 10 مختلف ملکوں سے 30 مصنفین اور مقررین شرکت کریں گے۔ افتتاحی تقریب کے اہم مقررین میں فرانس رابنس اور نو ر الہدیٰ شا ہ شامل ہیں جبکہ اختتامی تقریب سے انور مقصود، امیت چودھری اور بھارت کے سابق وزیر ، ادیب اور دانشور منی شنکر آئیر خطاب کریں گے۔

فیسٹیول میں 26 کتابوں کی رونمائی ہو گی اور 70 سے زیادہ سیشنز ہوں گے۔ جو ادبی شخصیات اور دانشور فیسٹیول میں شریک ہوں گے ان کی فہرست بہت طویل ہے ۔ اس میں سے کچھ نام یہ ہیں:

عارفہ سیدہ زہرہ،عارف حسن، اشرف جہانگیر قا ضی، آصف رضا میر، عطیہ داؤد ،بشریٰ انصاری، حفیظ پاشا ، حمید ہارون، ڈاکٹر ہما بقائی، آئی اے رحمٰن، افتخار عارف، عرفان کھوسٹ، ڈاکٹر عشرت حسین، اظہار سومرو، جاوید جبار، قیصر بنگالی، کشور ناہید، مہتاب اکبر راشدی، مہرین جبار، سلمان احمد، ثمینہ احمد، ثا نیہ سعید، سرمد کھو سٹ، شہر یار ایم خان، شرمین عبید چنائے، شیما کرمانی اور ضیا محی الدین ۔

جرمن کونسل جنرل ’ جرمن پیس پرائز‘ کا اعلان کرتے ہوئے
جرمن کونسل جنرل ’ جرمن پیس پرائز‘ کا اعلان کرتے ہوئے

فیسٹیول کے دوران ہر سال چار انعامات دیئے جاتے ہیں جن میں’جرمن پیس پرائز‘ اور ’اٹلی ریڈز پاکستان ایوارڈ‘ بھی شامل ہے۔ قونصل خانہ جر منی اور اٹلی کے علاوہ امریکی کونسلیٹ بھی اس فیسٹیول کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے جبکہ برٹش کونسل بھی اس میں پیش پیش رہتا ہے۔

پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر بہترین قرار دی جانے والی کتابوں کے مصنفین کو بالترتیب تین لاکھ، ڈھائی لاکھ اور دو لاکھ روپے بطور انعامی رقم دیئے جائیں گے ۔ اس کے لئے کتابیں شارٹ لسٹ کر لی گئی ہیں ۔ جن مصنفین کی کتابیں شارٹ لسٹ کی گئی ہیں ان میں عمر شاہد حامد، محسن حمید، اسامہ صدیق ،اختر بلوچ ، اعجاز حسین ، رسول بخش رئیس ، الطاف فاطمہ ،فہمیدہ ریاض وغیرہ شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG