رسائی کے لنکس

چینی حکومت کے ناقد لو شاؤبو انتقال کر گئے


ہانگ کانگ میں لوگ لو شاؤ بو کی یاد میں ان کی تصویر کے آگے پھول رکھ رہے ہیں

شاؤ بو گزشتہ آٹھ برسوں سے چینی حکومت کی قید میں تھے جنہیں چند روز قبل ہی جیل سے چین کے شہر شین یانگ کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ ادھر، نِکی ہیلی نے کہا ہے کہ ’’آج آزادی کا ایک حقیقی متوالا ہم میں نہیں رہا، جو دنیا بھر میں جمہوریت کی امنگ برقرار رکھنے کی ایک مثال کی مانند تھا‘‘

چین میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم معروف رہنما اور امن کے نوبیل انعام یافتہ لو شاؤ بو حکومت کی حراست کے دوران انتقال کرگئے ہیں۔ ان کی عمر 61 برس تھی۔

لو شاؤ بو گزشتہ آٹھ برسوں سے چینی حکومت کی قید میں تھے جنہیں چند روز قبل ہی جیل سے چین کے شہر شین یانگ کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ جمعرات کی شام انتقال کرگئے۔

شین یانگ کی عدالتی حکام نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شاؤبو کا انتقال "مختلف اعضا کے کام بند کرنے" سے ہوا۔

اسپتال انتظامیہ نے شاؤ بو کے انتقال کا اعلان جمعرات کی شب ایک پریس کانفرنس میں کیا جس میں اسپتال کی انتظامیہ نے بتایا کہ انتقال کے وقت شاؤ بو کی اہلیہ اور دیگر قریبی رشتے دار ان کے پاس موجود تھے۔

شاؤ بو ایک عرصے سے جگر کے سرطان کا شکار تھے لیکن ان کے اہلِ خانہ کے مطابق چینی حکومت نے انہیں مرض کے بالکل آخری اسٹیج پر پہنچنے کے بعد اسپتال منتقل کیا۔

ان کے آخری ایام کے دوران ان کی بیماری کی خبریں اور اس سے جڑے تنازعات بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی زینت بنے رہے۔

شاؤ بو کے اہلِ خانہ انہیں بہتر علاج کے لیے امریکہ یا جرمنی منتقل کرنا چاہتے تھے جس کی چینی حکومت نے آخر تک اجازت نہیں دی ۔

البتہ دو ہفتے قبل چینی حکومت نے امریکہ اور جرمنی سمیت دنیا بھر کے ڈاکٹروں کو دعوت دی تھی کہ اگر وہ چاہیں تو چین آ کر شاؤ بو کا علاج کرسکتے ہیں۔

لو شاؤ بو 1955ء میں چین کے ایک دانشور خاندان میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1988ء میں بیجنگ کی ایک یونیورسٹی سے چینی ادب میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔

لو 1989ء میں چین میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش تھے اور اس کے بعد سے مسلسل چین میں جمہوری اور شہری آزادیوں کے حق میں آواز اٹھاتے رہے تھے۔

وہ 1989ء کے بعد سے کئی بار گرفتار ہوئے اور کئی کئی سال تک قید کاٹی۔ انہیں آخری بار 2008ء میں چین میں جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا اور 11 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس قید کے دوران ہی انہیں چین میں "بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عدم تشدد پر مبنی طویل جدوجہد" کرنے پر 2010ء میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا جسے وہ قید میں ہونے کی وجہ سے وصول نہیں کرسکے تھے۔

اقوام متحدہ میں امریکی سفیر، نِکی ہیلی نے کہا ہے کہ ’’آج آزادی کا ایک حقیقی متوالا ہم میں نہیں رہا، جو دنیا بھر میں جمہوریت کی امنگ برقرار رکھنے کی ایک مثال کی مانند تھا‘‘۔

اپنے تعزیتی پیغام میں، نِکی ہیلی نے کہا ہے کہ لو شاؤبو اپنی آواز بلند کرتے رہے، اِس بات کا بخوبی علم ہوتے ہوئے کہ اِس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں، تاکہ آئندہ کی نسلیں استفادہ کرسکیں۔ اُنھوں نے کہا کہ لوشاؤبو نے 2010ء میں نوبیل لیکچر کے دوران کہا تھا کہ ’’قانون کی حکمرانی کا خیال کرنے والا ملک جہاں انسانی حقوق کو اعلیٰ ترین مقام حاصل ہے‘‘، یہی اصل خدمت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG