رسائی کے لنکس

logo-print

مائع قدرتی گیس کی درآمد کا معاہدہ موخر


مائع قدرتی گیس کی درآمد کا معاہدہ موخر

پاکستان کی وزارت پیٹرولیم نے سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرا ئی ہے کہ فرانس کی ایک کمپنی کے ساتھ مائع قدرتی گیس ”ایل این جی“کی درآمد کے لیے طے پانے والے اربوں ڈالرمالیت کے معاہدے پر اُس وقت تک دستخط نہیں کیے جائیں گے جب تک عدالت اس معاہدے میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات کی سچائی کا تعین نہیں کر لیتی۔

یہ بات سرکاری وکیل ایس ایم ظفر نے بدھ کو اس مقدمے کی سماعت کے بعد صحافیوں کو بتائی۔

گزشتہ ماہ مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ وزرات پیٹرولیم نے مقامی گیس کمپنی کے تحفظات کے باجود مائع قدرتی گیس کی درآمد کا معاہدہ ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے قومی خزانے کو ایک ارب ڈالر یا 84 ارب روپے کا نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔

اس خبر کی اشاعت کے فوراََ بعد عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ازخود کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس کی وضاحت طلب کی تھی اور یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت ہے ۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت 21 اپریل تک موخرکرتے ہوئے مائع گیس کی درآمد کے معاہدے کی اصل دستاویزعدالت کے سامنے پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG