رسائی کے لنکس

logo-print

کنٹرول لائن پر گولہ باری، پاکستانی فوجی سمیت دو افراد ہلاک


لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی فوجیوں کی ایک پٹرولنگ پارٹی علاقے کی نگرانی کر رہی ہے۔ فائل فوٹو

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام نے بتایا ہے کہ جنوبی ضلع کوٹلی کے نکیال سیکٹر کے ایک گاؤں پر ہفتے کے روز سرحد پار سے گولے داغے گئے جن کی زد میں آ کر ایک 40 سالہ خاتون ہلاک جب کہ 4 عورتوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے۔

اسٹنٹ کمشنر نکیال راجہ طارق نے بتایا کہ زخمیوں کو نکیال اور کوٹلی کے اسپتالوں میں داخل کرایا دیا گیا ہے جہاں ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے جب کہ گولہ باری کے پیش نظر سرحدی علاقوں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گولے گرنے سے ایک مکان کو آگ لگ گئی جس کی زد میں آ کر کئی بھینسیں اور بکریاں ہلاک ہو گئیں۔

نکیال سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ایک سابق وزیر جاوید بڈھانوی نے وائس آف امریکہ کو بتایاکہ گولہ باری سے سرحدی علاقوں کے رہائشی خوف و ہراس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

جاوید بڈھانوی نے بتایا کہ گولہ باری سے بچنے کے لیے لوگوں نے بنکروں میں پناہ لی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے گولہ باری بلا اشتعال تھی۔

پاکستان آرمی کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ متنازعہ کشمیر میں جنگ بندی لائن پر بھارتی فائرنگ سے ایک پاکستانی فوجی کی ہلاکت ہوئی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع کشمیر میں جنگ بندی لائن پر گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔

تاہم اس سال فروری میں بھارتی کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ایک فوجی قابلے پر خودکش حملے میں 40 سے زائد بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپوں میں تیزی آ گئی ہے۔

بھارت کی جانب سے پچھلے مہینے آرٹیکل 370 اور 35 اے منسوخ کر کے جموں و کشمر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جہاں بھارتی زیر انتظام کشمیر میں امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے ہیں وہاں کنڑول لائن پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

دونوں ملک ایک دوسرے پر فائربندی کے معاہدے کی خلاف ورزی میں پہل کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

کشمیر کے تنازع پر پاکستان اور بھارت کے درمیان دو جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔

پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ جب کہ بھارت اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG