رسائی کے لنکس

کرونا وائرس: مشرقِ وسطیٰ میں بھی جزوی لاک ڈاؤن


(فائل فوٹو)

کرونا وائرس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں میں بھی جزوی لاک ڈاؤن ہے۔ شہری گھروں تک محصور ہیں۔ ریستوران، کاروباری مراکز اور مقدس مقامات پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور حکومتی ردعمل میں تاخیر کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے وائرس سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایران کے صدر نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب میں کہا کہ کرونا وائرس کے معاملے پر ہم نے خلوص نیت سے کام کیا۔

اُنہوں نے کہا کہ 19 فروری کو وائرس کا پتا چلتے ہی قوم کو اس سے متعلق آگاہ کر دیا گیا۔ لہذٰا حکومتی ردعمل میں کوتاہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایران کے مختلف حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف حکومت کی نااہلی اور بروقت اقدامات نہ کرنے سے وائرس تیزی سے پھیلا۔ ناقدین کا یہ بھی الزام ہے کہ حکومت کے اعلٰی عہدے داروں نے ابتداً اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

ایران کی حکومت نے کئی ہفتے پہلے ہی مقدس مقامات کو ہجوم کے لیے بند کرنے پر زور دیا تھا۔ البتہ اس ضمن میں سختی نہیں برتی گئی تھی۔ تاہم ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کے باعث رواں ہفتے ایران میں موجود مقدس مقامات کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا۔

ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس جمعے کو بھی مساجد میں اجتماع نہیں ہو گا۔ اس سے قبل سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات بھی نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر چکے ہیں۔

ایران میں بدھ کو ایک ہی دن میں سب سے زیادہ 147 افراد کرونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد ملک بھر میں وائرس سے ہلاک ہونے والے مجموعی تعداد 1135 ہو گئی ہے۔

ایران کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی کرونا وائرس کے خلاف اقدامات میں مصروف ہیں۔ ایران کے حریف ملک اسرائیل نے بھی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

بدھ کو اسرائیل میں کرونا وائرس کے مزید 90 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے عوام سے اپیل کی کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں ورنہ معاملات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل میں کیسز کی مجموعی تعداد 427 ہو گئی ہے۔

عراق میں ایک ہفتے سے کرفیو نافذ ہے۔ صرف پیدل افراد کو اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے مخصوص اوقات میں گھروں سے نکلنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

عراق میں کرونا وائرس کے 154 کیسز جب کہ اس 11 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

مصر میں بھی جزوی لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے۔ دو کروڑ آبادی کے شہر قاہرہ میں کافی شاپس، ریستوران اور کاروباری مراکز بند ہیں۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار گھروں سے باہر نکلنے والے افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG