رسائی کے لنکس

logo-print

کیا لاک ڈاؤن میں بچے نفسیاتی طور پر متاثر ہو رہے ہیں؟


لاک ڈائون کے دوران بچوں کی کھیل کود بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ بچہ عمر میں کم ہوتا ہے مگر اپنی ذات میں ایک پوری شخصیت ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے مسائل بھی اہم ہو سکتے ہیں اور ان کا تعلق ارد گرد کے ماحول سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

کرونا کی وبا اور بچوں کی ذہنی صحت
please wait

No media source currently available

0:00 0:06:43 0:00

آج کی بات کیجئے تو زندگی کے تمام معمولات کرونا وائرس سے بچاؤ کے گرد گھومتے ہیں۔ بچوں کے سکول بند ہیں اور اچانک انہیں اتنے بہت سے دنوں کے لیے گھر پر بند ہو کر رہنا پڑ رہا ہے۔

ان کی زندگی کا معمول بالکل تبدیل ہو کر رہ گیا ہے اور وہ اپنے دوستوں سے بھی نہیں مل سکتے۔ ایسے میں، ان کے ذہن کی الجھنیں ان کے رویے سے ظاہر ہونے لگیں تو حیرت نہیں ہونی چاہئے۔

آن لائن کلاسز
آن لائن کلاسز

اس رپورٹ کی تیاری میں کچھ ماؤں سے بات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ بچے سوال تو کرتے ہیں مگر اس نئے معمول میں ڈھلتے بھی جا رہے ہیں۔ ایک ماں نے بتایا کہ ان کا بچہ جان گیا ہے کہ فی الوقت ایک وائرس ہے جو سب کو تنگ کر رہا ہے مگر یہ جلد ہی چلا جائے گا اور گھر سے باہر جائیں تو واپس آکر ہاتھ ضرور دھونے ہیں یا سینیٹائزر استعمال کرنا ہے۔

مدیحہ محمود تین بچوں کی ماں ہیں اور تینوں ہی سکول جانے کی عمر کے ہیں۔ 11 سال کی بیٹی اور دو جڑواں بیٹے جو آٹھ سال کے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے بچے آپس میں خوش ہیں مگر یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ سکول کب کھلیں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ بیٹی کو رنج ہے کہ پانچویں جماعت کی اس کی گریجو ایشن کی تقریب نہیں ہو سکی۔ البتہ، مدیحہ کہتی ہین کہ ان کی ایسی خواتین سے بات ہوتی ہے جن کا ایک ہی بچہ ہے اور لاک ڈاؤن میں تنہائی اور دوستوں سے دوری اس میں اینگزائٹی پیدا کر رہی ہے۔

ڈاکٹر سہیل چیمہ نیو یارک میں نو عمر افراد اور بچوں کی نفسیات کے ماہر ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کووڈ نائینٹین سے زیادہ تر اموات بڑی عمر کے لوگوں کی ہوئی ہیں۔ بچوں کو اس وائرس نے جسمانی طور پر تو اتنا متاثر نہیں کیا، مگر ذہنی طور پر اس کے گہرے اثرات ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایک مطالعے کے مطابق سکول یا کالج سے بچہ جو تعلیم حاصل کرتا ہے اس کا تیس سے پینتیس فیصد وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں استعمال کرتا ہے اور باقی پینسٹھ سے ستر فیصد قابلیت وہ اپنی معاشرتی زندگی میں استعمال میں لاتا ہے۔ وہ معاشرتی قابلیت یا سوشل سکلز جو وہ اپنے ماحول، اپنے دوستوں اور اپنے ارد گرد موجود لوگوں سے حاصل کرتا ہے اور اگر اس ستر فیصد کو آپ اس کی زندگی سے نکال دیں گے تو اس کا اثر منفی ہونا لازمی ہے۔

سہیل چیمہ نے کہا کہ آج کل جہاں بھی جائیں بات کرونا وائرس کی ہوتی ہے، میڈیا پر بھی ذکر کرونا کی وبا کا ہی ہوتا ہے، اس وائرس کی وجہ سے گھر میں بند بچے کا ذہن پریشان ہوتا رہتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بچے اپنی الجھن کا اظہار کرنا نہیں جانتے۔ اور اگر جانتے بھی ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے محسوسات ظاہر ہو گئے تو لوگ انہیں جج کریں گے۔ اور اندر ہی اندر ان کی بے چینی بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بچوں میں رات کو ڈرنے، خواب میں ڈر کر اٹھنے، ڈیپریشن اور اینگزائٹی کی علامات بڑھتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں جب تین سے پانچ سال کا بچہ بے جا ضد کرے، بات نہ مانے اور ماں اور باپ میں سے کسی ایک کو رد اور دوسرے کیلئے اصرار کرے تو یہ کوئی نارمل رویہ نہیں ہے۔ بچے کے ذہن میں کیا ہے والدین کو ضرور پتہ لگانا چاہئے۔

ڈاکٹر سہیل چیمہ نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب سماجی فاصلے کی وجہ سے کوئی کسی سے مل نہیں رہا، کہیں آنا جانا نہیں تو یہ بہترین موقع ہے کہ والدین اپنے بچے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ کھانے کی میز پر یا خاص طور پر وقت نکال کر بچے سے اس کے دل کی بات معلوم کریں۔

انھوں نے کہا کہ یہ وقت ماں باپ بننے کا نہیں بلکہ بچے کے ساتھی اس کے دوست بننے کا ہے۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ بچے کا دوست بن کر اس سے باتیں کریں اس سے پوچھیں کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ اسے کس بات کا خوف ہے۔ کیا پریشانی ہے۔ بات کر کے بچے کا مسئلہ سلجھانے کی کوشش کریں۔

نیو یارک کے ماہرِ نفسیات کہتے ہیں ہماری کمیونٹی میں اکثر والدین بچے سے دو یا تین معمول کے سوال کرتے ہیں۔ پڑھائی کیسی جا رہی ہے۔ کیسے گریڈز آرہے ہیں۔ سکول کیسا جا رہا ہے وغیرہ۔ ان کے مطابق، یہ کافی نہیں ہے۔۔۔۔

ڈاکٹر اختر حمیدی
ڈاکٹر اختر حمیدی

امریکی ریاست ایریزونا میں ماہرِ نفسیات اور امریکن بورڈ آف سائیکیٹرسٹ اینڈ نیو رولو جسٹس سے سند یافتہ کریکشنل سائیکیٹرسٹ ڈاکٹر اختر حمیدی نے بتایا کہ چھوٹی عمر کے بچوں سے زیادہ ٹین ایجرز کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ رہیں۔ وہ ان ہی سے معاشرتی طور پر سیکھتے بھی ہیں اور یہ سلسلہ نہ رہے تو ان میں ایک غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس لاک ڈاؤن کے دوران اگر مالی پریشانی پیدا ہو گئی ہو تو بچہ اس کا اثر بھی لیتا ہے۔ بہن بھائیوں سے جھگڑا کرنا، چیخ و پکار کرنا، تیز آواز میں میوزک چلانا، وڈیو گیمز پر لڑائیاں اسی کا ردِ عمل ہو سکتا ہے ایسے میں اگر والدین اپنی پریشانی کو پسِ پشت ڈال کر بچے کا خیال کریں اور گھر میں چھوٹے موٹے کاموں میں بچے کی مدد لیں تو وہ بہتر محسوس کرتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کیلئے کچھ کر رہا ہے۔

لیکن ڈاکٹر حمیدی نے کہا کہ والدین ایک ٹین ایجر کیلئے دوستوں کا متبادل نہیں ہوتے، چنانچہ انہیں ان کا دوست بن کر ان کی سطح پر آکر ان سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔

ماہرِ نفسیات نے کہا کہ ماں باپ کا بچے کو اہمیت دینا اس میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے، جو اس کی شخصیت کی مثبت تعمیر کا باعث ہو سکتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG