رسائی کے لنکس

ٹڈی دل کے حملوں سے پاکستان کو غذائی قلت کا خطرہ


فائل فوٹو

پاکستان کے نصف سے زائد اضلاع ٹڈی دل کے حملوں کی زد میں ہیں۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے زرعی علاقوں میں سرسبز کھیتوں پر ٹڈی دَل قابض ہیں اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کے بڑے حصے پر ٹڈی دل کے حملوں سے غذائی عدم تحفظ کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے فصلوں کو ٹڈی دل کے حملوں سے بچانے اور ان کے تدارک کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ 20 ارب روپے مختص کیے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی معاونت سے ٹڈی دل کے تدارک کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹڈی دل سے سب سے زیادہ متاثر بلوچستان کے اضلاع ہیں۔

حکومت کی جانب سے ٹڈی دَل کے تدارک کے لیے کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی ہے۔ لیکن زرعی ماہرین ٹڈی دل کو خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین ملک خالد کھوکھر کا کہنا ہے کہ "خدارا کچھ کریں، ورنہ زرعی شعبے سے جڑی ملکی معیشت کو بڑا خطرہ درپیش ہے اور ملک غذائی قلت کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں نے ٹڈی دل کے حملوں سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا ہے اور نہ ہی کوئی سروے ہوا ہے۔

ٹڈی دل کی فصلوں پر یلغار سے کسان پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:51 0:00

ملک خالد کھوکھر نے کہا کہ پنجاب کے وزیر ابھی تک یہ کہہ رہے ہیں کہ کپاس کی فصل کو دو سے تین فی صد نقصان ہوا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پنجاب میں 50 لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت ہوتی ہے، یعنی ڈیڑھ لاکھ ایکڑ کی فصلوں کا نقصان ہوا ہے جو بہت زیادہ ہے۔

ادھر پنجاب کے صوبائی وزیرِ زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کا دعویٰ ہے کہ پنجاب کی فصلیں ایران سے آنے والی ٹڈیوں کے بڑے جھنڈ سے ابھی تک محفوظ ہیں۔

اُن کے مطابق ایران سے آنے والے ٹڈی دل سندھ اور بلوچستان پہنچے ہیں لیکن ابھی پنجاب نہیں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جون کا مہینہ بہت اہم ہے اور ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔

ٹڈی دل کن فصلوں پر حملہ کرتے ہیں؟

زرعی ماہرین کا کہنا ہے ٹڈی دل ہر اس فصل اور درخت پر حملہ آور ہیں جو سرسبز ہے۔ ان دنوں جنوبی پنجاب میں کپاس کی کاشت اپنے آخری مراحل میں ہے اور کپاس کے سبز پودے ٹڈیوں کی پسندیدہ غذا ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ایک ٹڈی کی روزانہ کی خوراک اس کے اپنے وزن کے برابر ہوتی ہے۔ اس حساب سے دیکھیں تو ایک مربع کلو میٹر پر پھیلا ٹڈیوں کا غول ایک دن میں اندازاً 35 ہزار لوگوں کی یومیہ خوراک کے برابر فصلیں اور اناج کھا رہا ہے۔

محمد شعیب خان بہاول نگر میں کپاس کے کاشت کار ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ان کی 50 ایکڑ پر کھڑی فصلوں کو ٹڈی دل نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ٹڈی دل نے ان کی 70 فی صد فصل خراب کر دی اور اب ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی کپاس کی باقی فصل بھی ختم کر دیں۔

ٹڈی دل کا سندھ کے بعد پنجاب کی فصلوں پر حملہ
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:36 0:00

اسی طرح ملتان میں آم اگانے والے ملک ظفر مہے کہتے ہیں کہ ملتان اور اس کے گرد و نواح میں آم کے درختوں پر بیٹھنے والے ٹڈیوں کے جھنڈ نے باغات کے 20 فی صد سبز پتے چٹ کر ڈالے ہیں۔ یہی پتے آم کے باغ اور پیداوار کی فیکٹریاں ہیں جنہیں ٹڈی دل نے بڑا نقصان پہنچایا ہے۔

"اسے ٹڈیوں نے اس طرح کھایا ہے کہ آم تو بچا لیکن اس کے اردگرد سارے پتے صاف ہو چکے تھے۔ اس کا نقصان اس بار کی پیداوار کو بھی ہو گا اور آئندہ سال کی پیداوار پر بھی فرق پڑے گا۔"

ٹڈی دل کی افزائش کے لیے موزوں ماحول

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ افریقہ سے آنے والی ٹڈیاں پاکستان کے تقریباً 38 فی صد رقبے پر پھیل کر انڈے دیں گی۔ کچھ عرصہ بعد یہ ٹڈیاں بڑی تعداد میں افزائش نسل کر کے پاکستان کی زراعت کے لیے بہت بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔

ٹڈیاں زیادہ تر ریتلی زمین میں انڈے دیتی ہیں۔

پاکستان کے کل سات لاکھ 96 ہزار کلو میٹر کے رقبے میں سے تین لاکھ مربع کلو میٹر رقبہ ایسا ہے جہاں ٹڈیاں انڈے دے سکتی ہیں۔ اس میں سے 60 فی صد رقبہ بلوچستان، 30 فی صد سندھ اور 15 فی صد پنجاب میں ہے۔

پنجاب کا علاقہ چولستان جو پاکستان اور بھارت کا سرحدی صحرائی علاقہ ہے، ٹڈیوں کی ایگلنگ کے لیے سب سے موافق ہے۔ لیکن پاکستان کے پاس ابھی وقت ہے کہ وہ ٹڈیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر اور جارحانہ حکمت عملی بنائے۔

بھارت میں ٹڈی دل کا صفایا
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:26 0:00

کسان اتحاد کے چیئرمین ملک خالد کھوکھر کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے کا قومی ادارہ 'این ڈی ایم اے' اس پر کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل کے نئے اسپیل کو کنٹرول کرنا پڑے گا اور اس کو آگے نہیں آنے دیا جائے۔ کیوں کہ وہ یہاں آ گیا تو پھر کنٹرول نہیں ہو سکے گا۔

خالد کھوکھر کے بقول ٹڈی دل کرونا وائرس سے بڑی بیماری ہے۔ اگر خدا نخواستہ قحط سالی آ گئی تو پھر حالات بہت برے ہوں گے۔

پنجاب کا محکمۂ زراعت کسانوں سے توقع کر رہا ہے کہ وہ حکومت کی مدد کریں۔ ڈائریکٹر جنرل زراعت پنجاب ڈاکٹر انجم علی بٹر کہتے ہیں کہ اس وقت ٹڈی دل کے خاتمے کے لیے جہازوں کی مدد بھی لی جا رہی ہے۔

"ہم نے راجن پور، لیاقت پور اور خانیوال میں جہازوں کا استعمال کیا ہے۔ ہم اچھے پیسٹی سائڈز استعمال کر رہے ہیں۔ پنجاب میں اس وقت ایک لاکھ لیٹر سے زیادہ کا اسٹاک ہمارے پاس موجود ہے جو ٹڈیوں کو مارنے کے لیے کام میں لایا جا رہا ہے۔"

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک اور زراعت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پاکستان ٹڈی دل سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات نہیں کر سکا تو ربیع کی فصلوں کو 15 فی صد اور خریف کی فصلوں کو 25 فی صد تک نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے پاکستان کو چار ارب ڈالرز کا مالی نقصان ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG