رسائی کے لنکس

logo-print

'لندن انٹرنیشنل یوتھ سائنٹیفک فورم' کے شرکا پاکستانی ہائی کمیشن میں


لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر ابن عباس نے طلبہ کی کامیابی کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کی تعلیم اور مہارت سے ملک کو یقیناً فائدہ پہنچے گا۔

اس برس 'لندن انٹرنیشنل یوتھ سائنٹیفک فورم' میں پاکستان سے سات طالب علموں نے حصہ لیا ہے یہ کانفرنس 26 جولائی سے 9 اگست کے درمیان منعقد کی گئی۔

پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے سات طالب علموں نے انٹرنیشنل یوتھ سائنٹیفک فورم کے دو ہفتے کے رہائشی پروگرام کے دوران برطانیہ کے معروف تعلیمی اور سائنسی اداروں کا دورہ بھی کیا ہے۔

تعلیمی دورے کے دوران پاکستان کے سات ہونہار طالب علموں کو لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں بھی مدعو کیا گیا جہاں ہائی کمشنر سید ابن عباس نے طلبہ کے وفد سے ملاقات کی ہے۔

کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے شرکاء کا انتخاب پاکستان سائنس فاونڈیشن اور سائنس اور ٹیکنالوجی اسلام آباد کی وزارت کی طرف سے مقرر کردہ سخت شرائط کی تحت کیا جاتا ہے۔

2016ء کی کانفرنس کا موضوع 'عظیم سائنسی دریافتیں' تھا۔

پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کی سینیئر سائنٹیفک آفیسر ریحانہ بتول بھی طالب علموں کے وفد کا حصہ ہیں۔ انھوں نے طلبہ کے ساتھ لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ کیا ہے اور ہائی کمشنر پاکستان ابن عباس کے ساتھ دو ہفتے کے قیام کے تجربات کا اشتراک کیا ہے۔

لندن میں پاکستان کے ہائی کمشنر ابن عباس نے طلبہ کی کامیابی کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ان کی تعلیم اور مہارت سے ملک کو یقیناً فائدہ پہنچے گا۔

اس موقع پر ہائی کمشنر نے پاکستان فاونڈیشن کے لیے ممکنہ حد تک تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ آنے والے سالوں میں زیادہ طالب علموں کو لندن انٹرنیشنل یوتھ سائنس فورم میں حصہ لینے کا موقع مل سکے گا۔

دو ہفتہ کا رہائشی پروگرام ایمپریل کالج لندن میں منعقد کیا گیا جہاں شرکاء کو ناصرف ملک کے ٹاپ ماہرین کے ساتھ بات چیت کرنے کے موقع ملا ہے بلکہ معروف صنعتی اداروں کا دورہ، تحقیقی مراکز تک رسائی، سائنسی تجربہ گاہوں اور معروف تعلیمی اداروں کیمبرج اور آکسفورڈ تک رسائی کے ساتھ لیکچرز کے عالمی معیار کے پروگراموں میں شامل ہونے کا موقع بھی حاصل ہوا ہے۔

اس کے علاوہ شرکاء کو یہاں اکثر قومی اور بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کے فاتح بننے کا موقع بھی ملتا ہے جبکہ کانفرنس میں مختلف کلچرل شوز کے ذریعے بین الثقافتی مواصلات پر بھی زور دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے طالب علموں نے کانفرنس میں ان کے منصوبے پیش کئے ہیں جبکہ پاکستانی طالب علم احد خرم اور معاذ اللہ ارشد نے اسکول چھوڑنے کے بعد کونسی تعلیم کا انتخاب کیا جائے؟ اور اس انتخاب کو آسان بنانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس پر انھیں تعلیمی اداروں اور ماہرین کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی ہے۔

جبکہ کلچرل شو میں اپنی شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے والے پاکستانی طالب علموں نے مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔

اس تنظیم کو بنیادی طور پر مختلف تنظیموں اور اداروں کی حمایت حاصل ہے جن میں برٹش کونسل اور ایجوکیشن یو کے اینڈ گریٹ کیمپیئن تنظیم سر فہرست ہیں۔

1959ء میں قائم ہونے والی تنظیم کا مقصد تمام قوموں کے نوجوانوں کو بنی نوع انسان کے فائدے کے لیے سائنس اور اس کی اپلیکیشنز سے متعلق گہری تفہیم فراہم کرنا ہے۔

XS
SM
MD
LG